ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
نیویارک ( نیوزڈیسک) امریکا میں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت لیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ظہران ممدانی نے 486,741جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار نیڈریو کومو نے 396,177 ووٹ لئے، ری پبلکن کے کرٹس سلوا صرف 79,281 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اور ری پبلکن حریف کرٹس سلوا سے تھا، نیویارک میئر کے الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں 2001ء کے بعد میئر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔
پولنگ سٹیشنز پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہی، 17 لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی جانب سے مخالفت کے باوجود مسلم امیدوار ظہران ممدانی پہلی بار نیویارک شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔
واضح رہے کہ امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں مقامی و ریاستی انتخابات کے لیے بھی ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے، ریاست ورجینیا میں گورنر اور لیفٹینینٹ گورنر کے لئے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق نیوجرسی میں گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار میکی شیرل کو معمولی برتری حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔