ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکا، نیویارک میں میئر کےتاریخ ساز انتخابات میں مسلم امیدوار ظہران ممدانی کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مسلم امیدوار ظہران ممدانی تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوگئے۔ ان کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا سے تھا۔
یہ الیکشن کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوا، کیونکہ 2001 کے بعد پہلی بار نیویارک کے میئر انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا۔ تقریباً 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے پولنگ اسٹیشنز پر جا کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کی مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی نے واضح برتری حاصل کی۔ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود اینڈریو کومو شکست سے دوچار ہوئے۔
1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی والدہ، فلم ساز میرا نائر، آسکر کے لیے نامزد ہو چکی ہیں جبکہ والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ان کی اہلیہ رما دواجی شامی ایک معروف آرٹسٹ ہیں۔
ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے مسائل کو مرکزِ نگاہ بنایا۔ ان کا ایجنڈا سستی رہائش، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، یونیورسل چائلڈ کیئر اور متوسط طبقے کے لیے سہولتوں کے فروغ پر مبنی تھا۔
انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کریں گے، شہر میں ٹرانسپورٹ مفت ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ عوامی رابطہ مہم کے دوران وہ نیویارک کے شہریوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی کھلی اور دوٹوک آواز کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ ان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ