گفتگو کا بھوکا عہدِ حاضر کا انسان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں
پھر انہیں خودکشی سکھاتا ہوں
یہ اشعار مرحوم ایس پی عدیل اکبر کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے لیے گئے ہیں۔
شام کے وقت اپنے فلیٹ میں موبائل کی روشنی میں وقت گزارتے ہوئے اچانک اس خبر نے دل میں ایک سنسنی پیدا کر دی تھی۔ اسلام آباد کے نوجوان ایس پی، عدیل اکبر گجر، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ پہلے خبر آئی کہ قتل ہوا، پھر معلوم ہوا کہ یہ ان کی اپنی زندگی کا اختتام تھا۔
خودکشی، ایک ایسا نوجوان، جوانی کے جوش و خروش میں، اپنے خوابوں کی روشنی لیے، اچانک زندگی کی خاموشی میں کھو گیا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہی شخص، جس سے 2 ملاقاتوں میں بھی انسانیت، نفاست اور حساسیت جھلکتی تھی، اتنے گہرے اندرونی مسائل میں مبتلا تھا کہ کسی سے اپنی تکلیف بانٹ نہ سکا۔
ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ اور شاعری میں ایک خالی پن، ایک خاموش درد، اور اندھیرے میں الجھے ارمان کی جھلک نمایاں تھی۔ کچھ اشعار جو ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ تھے، ملاحظ فرمائیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر گفتگو کا پیاسا تھا یہ شخص:
اس طرزِ تعلق پہ تعجب ہے کہ ہم لوگ
موجود تو ہوتے ہیں، میسر نہیں ہوتے
بہت اندر تک جلا دیتی ہیں
وہ حسرتیں جو بیاں نہیں ہوتی۔
اُس نے اِک بار بھی نہیں سوچا
میں یہی سوچتا رہا برسوں!
ہولی ہولی بُھل جاواں گے
اِک دُوجے دیاں شکلاں وی
ہولی ہولی سِکھ جاواں گے
زندہ رہن دیاں عقلاں وی۔
ہر مصرعہ ایک پچھتاوے کی صدا، ایک چھپی ہوئی حسرت، ایک امید کی خاموش دھڑکن تھا۔ شاید وہ کسی کے قریب اپنی تکلیف، اپنی خواہشات، اپنے خوابوں کی بات کرنا چاہتے تھے، مگر دنیا نے انہیں سننے والا نہ دیا۔ انسانی رشتوں کی کمی، محبت کی کمی، گفتگو کی قلت نے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا، اور بالآخر یہ خاموشی زندگی کا بوجھ بن گئی۔
یہ واقعہ آج کے مصروف، ڈیجیٹل، اور جدید دور میں انسان کی تنہائی کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ موبائل کی چکاچوند، سوشل میڈیا کے دوست، یا مصنوعی تعلقات انسان کی پیاس بجھا نہیں سکتے۔
انسان چاہتا ہے کہ کوئی اس کے دکھ سنے، اس کے ارمان سمجھے، اس کے جذبات کی قدر کرے۔ انسانی فطرت کبھی نہیں بدلتی؛ چاہے زمانہ جتنا بھی جدید ہو، محبت، رشتوں کا پیار، انسانی ربط اور گفتگو کی پیاس ہمیشہ رہتی ہے۔
چھوٹے لمحات میں ایک بات، ایک مسکراہٹ، ایک سننے والا ہاتھ، کبھی کبھار کسی کے درد کا سب سے بڑا مرہم بن سکتا ہے۔ وقت اور زندگی کی تیز دوڑ میں، انسانی دل کی تنہائی کو محسوس کرنا اور اس کا خیال رکھنا بڑی انسانیت ہے۔
سائرس کی قبر پر کھڑے ہو کر اسکندر نے کہا تھا کہ پوری دنیا فتح کر لینے کے باوجود، انسان کا مقدر قبر کی تنہائی ہے۔ موت بڑے سے بڑے فاتح کو بھی اس خاموشی میں اتار دیتی ہے۔
آج عدیل اکبر کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ خواہشات، محبت، یادیں، رشتوں کی جستجو اور گفتگو کی پیاس ہمیشہ رہتی ہے۔ چاہے زمانہ جتنا بھی جدید ہو، حقیقی محبت، انسانی ربط اور توجہ انسان کی زندگی کے لیے لازمی ہیں، ورنہ یہ خاموش درد، اس خالی پن میں بدل جاتا ہے جو کبھی کبھی انسان کو اپنے دل کی آخری دھڑکن تک لے جاتا ہے۔
کبھی انسان چیخنا چاہتا ہے مگر الفاظ نہیں ملتے، دل اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے اور دنیا بے خبر رہتی ہے؛ وہ ہنستا ہے مگر مسکراہٹ کے پیچھے ایک لامتناہی خاموشی چھپی ہوتی ہے، وہ اپنے زخموں پر مسکراہٹ کا پردہ ڈال لیتا ہے مگر اندر ایک قبر بنتی رہتی ہے۔
قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں، پھر انہیں خودکشی سکھاتا ہوں۔ یہ چند الفاظ محض سطرِ تحریر نہیں، ہمارے عہد کا اعتراف ہیں۔ اس دور کا المیہ یہ ہے کہ بولنے کے وسائل وسعت پا گئے مگر سُننے والا کم ہوتا گیا، ربط بڑھے مگر ربطیت کم ہو گئی، ہم جڑے ہیں مگر ایک دوسرے سے نہ سہی، دلوں سے کٹ گئے ہیں۔
زندگی میں خوشی اور درد ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں، مگر مصروفیات، آن لائن سرگرمیاں اور فردیت نے تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ انسان جسمانی طور پر قریب ہے، مگر ذہنی طور پر الگ۔ ایک مسکراہٹ، ایک سلام یا چند باتیں کبھی کبھار کسی کا نصف غم کم کر سکتی ہیں۔
آج کا انسان گفتگو کا بھوکا ہے، اور یہ بھوک بعض اوقات ایک خاموشی کی طرف لے جاتی ہے جو جان لیوا ثابت ہوتی ہے، وہ کہتا ہے ’بعد میں بات کریں گے، بعد میں ملیں گے، بعد میں بتاؤں گا…‘ مگر یہ ’بعد‘ اکثر کسی کا نہیں ہوتا، اور وہ لمحہ جو ہم نے مکمل زندگی سمجھ لیا ہوتا ہے، خاموشی کی موت میں بدل جاتا ہے۔
اندھیری رات میں کسی کے ساتھ محض ایک کلام، ایک جُزئی اظہار، ایک سوال۔ یہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو چیر سکتا ہے؛ مگر جب گفتگو کا در گھٹ جائے تو دل کا شور اندر ہی پِس کر زہر بن جاتا ہے۔ ایک جوان پولیس افسر، جو شاید کہنا چاہتا تھا مگر کوئی سننے والا نہ تھا، ہنستا رہا، دوسروں کے دکھ سہتا رہا، مگر جب اپنا دکھ بتانے کا وقت آیا تو دنیا کے پاس وقت نہیں تھا؛ ایسے ہزاروں واقعات روزمرہ میں چھپے رہ جاتے ہیں۔
مانسہرہ سے عامر ہزاروی نے لکھا:
’اندھیری رات کے رفیقِ خاص! میں چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ گفتگو ہو، کسی بھی موضوع پر بات چیت ہو، کچھ تُو کہے، کچھ میں کہوں، کچھ کہا جائے، کچھ سُنا جائے‘۔
جون ایلیا نے کہا:
’ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سُنی گئی‘۔
یہ دونوں جملے محض ادبی اقتباس نہیں، بلکہ روزِ محشرِ دل کی صدائیں ہیں؛ جو شخص بولنے کے قابل نہ ہو یا جسے سُننے والا نہ ملے، اسی فقدان نے تاریخ میں کئی ذہنوں کو گھیر رکھا ہے۔
خاموشی کبھی فنِ گفتگو کا حسن ہوتی ہے مگر جب وہ بند گلی بن جائے تو تباہ کن ہو جاتی ہے؛ نطشے نے دورِ جدید کے فرد کی وہ کیفیت یوں بیان کی:
”In his lonely solitude, the solitary man feeds upon himself; in the thronging multitude, the many feed upon him.
یہ انتخاب ہمارے زمانے کا سوال ہے کہ تنہائی میں خود کو کھا لینا بہتر ہے یا ہجوم میں کھو جانا — دونوں میں کوئی راحت نہیں۔
خلیل جبران نے فرمایا:
”You talk when you cease to be at peace with your thoughts; And when you can no longer dwell in the solitude of your heart you live in your lips.”
یعنی جب دل کے سکوت میں رہنا ممکن نہ رہے، آدمی زبان پر آ جاتا ہے؛ مگر آج گفتگو نے فضول گفت و شنید کا روپ اختیار کر لیا ہے، تب سوچ کا پرندہ قید ہو جاتا ہے۔
تاریخِ ادب و فن ایسی داستانوں سے بھری پڑی ہے جن میں خاموشی نے اہلِ کلام اور اہلِ فن کو اندر سے کھایا:
ورجینیا وولف نے طویل نفسی عذابات اور ڈپریشن کے بعد ۲۸ مارچ ۱۹۴۱ کو دریائے اوُوز میں چل کر خود کو ڈبو دیا۔
سلویہ پلاتھ نے ۱۱ فروری ۱۹۶۳ کو گیس اوون کے ذریعے اپنی زندگی ختم کی۔
ارنسٹ ہیمنگوے نے ۲ جولائی ۱۹۶۱ کو خود کشی اختیار کی۔
ون سنت وین گوخ کی موت ۲۹ جولائی ۱۸۹۰ کو عام طور پر خودکشی مانا جاتا ہے۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کتابی شہرت، فنّی بلندیاں یا علمی مقام انسان کو اس بنیادی ضرورت — سُننے اور بولنے — سے محفوظ نہیں رکھتیں۔
فلسفہ نے بھی خاموشی و گفتگو کو سوال بنایا:
سقراط نے گفتگو کو خودِ انسان کی جانچ کہا۔
شوپن ہاور نے انسان کی سماجی محدودیتیں اور جدائی کی ذات پر فلسفہ پیش کیا۔
نطشے نے معاشرتی وجود اور تنہائی کے انتخاب پر کہا: انسان کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
گفتگو کا فقدان کبھی عملی محرومی میں بدل جاتا ہے: جب کسی کا دکھ کہنے کو زبان نہ پائے یا جب اس کی زبان اپنے لیے منہ بند کرے، تو اندر مَردہ پن آتا ہے۔ فرانز کافکا نے لکھا کہ اگر تم نے اپنا درد بیان نہ کیا تو وہ تمہارے اندر گھس کر ہڈیوں کو کھا جائے گا۔
ہماری روزمرہ کی زبان بھی اسی خاموشی کی عکاس ہے: ہم ہر لمحہ ’لنک‘ بانٹتے ہیں مگر نفسِ بات کم کرتے ہیں، لائک دیتے ہیں مگر دل کے بھرنے کی خبر نہیں لیتے۔
ہمیں گفتگو کے لیے عملی راستے بھی ڈھونڈنے ہوں گے: سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کیجیے، سننے کی مہارت سیکھیں، لفظوں کو سنبھالنے کی مشق کیجیے، اور جب کوئی آپ کے سامنے اپنی خاموشی بانٹے تو اس کی بات پوری توجہ سے سنیے؛ کبھی سوالات کے جواب میں محض نصیحت دینے یا حالات کا موازنہ کرنے کی عادت ختم کیجیے اور دل سے صرف سننے کی مشق کیجیے۔ گفتگو کی یہ تہذیب گھر میں بھی شروع ہوتی ہے۔ اولاد سے، شوہر سے، والدین سے، دوست سے، اور محلے کی بستی سے۔
وہ صدی تمہاری تھی، یہ ہماری۔ وقت نے سب کچھ بدل دیا، بچے اپنے ماحول اور اردگرد سے کٹ گئے، ہر جگہ اور ہر انتخاب صرف ان کا۔ بزرگ خاموش، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن۔ شادی، الگ گھر، اپنی راہیں۔ یہ ہماری صدی ہے۔
رشتے بھی محدود وقت کے لیے ہیں۔ کبھی قریبی عزیز، کزنز، بہن بھائی، پھر دور کے نام رہ گئے۔ ملاقاتیں مہینوں یا تہوار تک محدود، ماں باپ دنیا سے گئے، بچے سسرالی مصروف۔ ہر رشتہ، ہر یاد اور ہر محبت کی اپنی حد اور وقت ہوتا ہے۔
والدین کی محفل میں چھپی یادیں، محلے کی گرماہٹ اور خاندان کی قربت اب بھی دل کو لمس دیتی ہیں، مگر وقت نے سب کچھ الگ کر دیا۔ یہی یادیں ہمیں رشتوں کی قدر، محبت اور انسانی تعلقات کی اہمیت سکھاتی ہیں۔
قرآنی اشارے اور صوفیانہ لطائف بھی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بندگی میں سماعتِ باطن کی اہمیت ہے؛ ’اذکر ربک فی نفسك تَھمَا‘ کا مفہوم ہمیں اندر کے کلام کی قدر سکھاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ سماعتِ باہری بھی شرطِ بقائے انسانیت ہے: کون سنے گا جب دل بات کرے؟ کون سمجھے گا جب الفاظ ناکام رہ جائیں؟ روحانیت کا مفہوم کم نہیں ہوتا جب ہم ایک دوسرے کے دکھ سن کر شریکِ درد بنتے ہیں۔
پیارے قارئین ! اگر آپ کے اندر کوئی روحانی خلش ہے تو اُسے زبان دیجئے، اگر کسی نے آپ سے کہا کہ بعد میں بات کریں تو آج ہی پوچھ لیجیے، اگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ ہے اور آنکھوں میں خالی پن — رک کر اس سے پوچھئے، خاموشی توڑنے کے لیے ایک ’ہیلو‘ کافی ہوتا ہے۔ گفتگو صرف معلومات نہیں، وہ دوا ہے، روشنی ہے، ایک چھوٹی سی رسی ہے جو انسان کو گہرائیوں سے نکال سکتی ہے۔ خاموشی، جب ایک فرض بن جائے، تو وہ مذہب نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی قاتل قوت بن جاتی ہے۔
زندگی کبھی اتنی آسان نہیں رہی کہ کوئی دوسرا ہمارے دکھ، تھکن یا جدوجہد کو سمجھ سکے۔ خاندان کو ہمارے روزمرہ کے دباؤ کا علم نہیں، اور کام ہماری زندگی کی پیچیدگیوں سے بے خبر ہے۔ دوست، ساتھی، چاہنے والے — سب اپنے دائرے میں الجھے ہیں، کسی کو اندازہ نہیں کہ دوسرا کس بھاری بوجھ تلے دبا ہے۔
ہر انسان اپنی جنگ اکیلے لڑتا ہے، اپنی کہانی کا کردار خود بنتا ہے، مگر کبھی کبھی یہ کردار نبھاتے نبھاتے روح تھک جاتی ہے۔ خواہشیں، توقعات، حالات، سب ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ہمیں کہیں اندر سے خالی کر دیتے ہیں۔
ہر وقت بہادر رہنا، مضبوط دکھنا، ایک کردار میں قید رہنا، یہ سب بظاہر آسان مگر اندر سے گھائل کر دینے والا عمل ہے۔ کبھی محبت کی ہار، کبھی اولاد یا والدین کا دکھ، کبھی رزق کا بوجھ، کبھی معاش کا غم، انسان بس ایک لمحے کے سکون کا طلبگار ہے، مگر دنیا اسے وہ لمحہ بھی نہیں دیتی۔ ہم سب ایک دوسرے کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں، سانس لینا بھول جاتے ہیں، اور پھر کوئی خاموشی سے بکھر جاتا ہے، کوئی ردِ عمل بن کر لوٹتا ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ’زندگی‘ کے سٹیٹس پر لکھ دیں۔ میں تھک گیا ہوں، میں ہار نہیں مانتا، مگر تھوڑا جینے کا مارجن چاہتا ہوں۔ کیونکہ جینا اور جینے دینا ہی اصل انسانیت ہے، اور یہی احساس ہم سب نے کہیں راستے میں کھو دیا ہے۔
خلیل جبران کے الفاظ کے ساتھ لوٹتے ہیں کہ جب تم بولو تو تمہارے اندر کا کچھ ظاہر ہوتا ہے اور جب تم خاموش رہو تو تم پورے کے پورے بن جاتے ہو؛ مگر اس پورے کو ہم نے ٹوٹا ہوا دیکھا ہے، لہٰذا بولیے، سُنئے، بانٹئے؛ کیونکہ گفتگو کی روشنی کئی اندھیروں کو مٹا سکتی ہے، اور ایک لفظ کبھی کسی کی جان بھی بچا سکتا ہے۔
ادب نے خاموشی کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے؛ حافظ نے سرشارِ عشق دل کی گھمبِیر کیفیت کو یوں کہا:
سِینہ مَلا مَالِ درد است، ای دریغا مَرَهمی،
دل ز تنہائی بہ جان آمد، خدا را ہَمْدَمی۔
خاموشی اکثر زہر بن جاتی ہے جب دل کے جذبات زبان پر نہ آئیں۔ ہم زندہ ہیں مگر بولتے نہیں، سنتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ قریبی ہیں مگر قریب نہیں۔ یہی خلا، یہی تنہائی، یہی غیرمحسوس خاموشی انسان کو اندر سے چوس لیتی ہے۔ ارسطو فرماتے ہیں کہ انسان فطرتاً سماجی جانور ہے، اور جب وہ تنہائی میں رہنے لگتا ہے تو یا وہ درندہ بن جاتا ہے یا دیوتا، مگر آج کا انسان نہ درندہ ہے نہ دیوتا، بس ایک مسکراتی ہوئی تنہا صورت ہے جو ہجوم میں کھو گئی ہے۔
جبران کہتے ہیں کہ جب ہم بولنا چھوڑ دیتے ہیں، تو خدا سے بھی دور ہو جاتے ہیں، اور اسی خاموشی میں ہم خود سے جُدا ہو جاتے ہیں۔ بوناپارٹ فرماتے ہیں کہ زیادہ خاموش رہنے والا یا بہت سمجھدار ہوتا ہے یا بہت زخمی؛ آج کے زیادہ تر لوگ زخمی ہیں، مگر مسکرا رہے ہیں، اور یہ مسکراہٹ اکثر درد کا نقاب ہوتی ہے۔
سقراط فرماتے ہیں کہ غور و فکر کے بغیر زندگی جینے کے قابل نہیں، مگر اگر غور و فکر اظہار سے جدا ہو جائے تو وہ انسان کو اندر سے مار دیتا ہے۔ اظہار، گفتگو اور ربط روح کے سانس ہیں؛ جس نے اظہار کھو دیا، وہ سانس لیتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔
رومی فرماتے ہیں:
’اگر کوئی سننے والا نہ ہو، تو ہوا سے بات کرو، مگر بات کرو۔
بشنو از نی چون حکایت میکند کز جداییها حکایت میکند‘۔
اقبال فرماتے ہیں کہ دل زندہ تبھی ہے جب احساس اظہار پائے، خاموشی اندھیرا ہے اور گفتگو روشنی۔ جون ایلیا کہتے ہیں کہ حادثہ واحد یہ ہے کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، نہ سنی گئی۔ رومی مزید فرماتے ہیں کہ غم وہ آتش ہے جو خاموش رہنے پر راکھ بن جاتی ہے، اور بولنے پر روشنی بن جاتی ہے۔
اقبال کہتے ہیں:
’پتہ پتہ گلِ گل کہے، بادِ صبا سے رازِ جاں، خموشی سے نہ رہ سکا، فطرتِ انسان بھی بیاں‘۔
غالب فرماتے ہیں:
’دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں، روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں‘۔
دوست! گفتگو صرف زبان سے نہیں، بلکہ نظر، لمس، دعا اور دل کے راز سے بھی ہوتی ہے، شرط یہ ہے کہ کوئی سمجھے۔ خاموشی اندھیرا ہے، اور گفتگو روشنی۔ پس اپنی خاموشی توڑو، دل کے راز بانٹو، زندگی مختصر ہے، اور ’بعد میں‘ ہمیشہ بہت دیر کر دیتا ہے۔
یاد رکھیں، ایک بات، ایک مسکراہٹ، ایک سننے والا دل کبھی کبھی کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔ آج اگر ہم سننا اور بولنا سیکھیں، اگر ہم رشتوں کی قدر کریں، اور دل کی باتوں کو وقت پر سنیں، تو خاموشی کبھی موت کا سبب نہیں بنے گی بلکہ انسانیت کا سب سے روشن چراغ بن جائے گی۔
قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں، مگر اب ہم سیکھیں کہ ان حسرتوں کو بانٹنا اور سننا ہی حقیقی زندگی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فرماتے ہیں کہ بن جاتی ہے سننے والا اور گفتگو کہ انسان رشتوں کی گفتگو کی جاتے ہیں انسان کی دیتے ہیں گفتگو کا بھی نہیں انسان کو کے ساتھ ہوتا ہے ہیں مگر والا نہ ہوتی ہے میں کھو رہتی ہے جاتا ہے سکتا ہے کسی کے کی قدر ہے مگر کے لیے نہیں س ہے اور
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔