City 42:
2026-07-24@03:55:59 GMT

پاسپورٹ بنوانے والوں کی بڑی پریشانی ختم

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

ویب ڈیسک : ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے شہریوں کے لیے پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کا نیا آن لائن نظام متعارف کرا دیا۔

 نئے نظام کے تحت اب شہری ایک منٹ میں فیس جمع کرا سکیں گے اور نیشنل بینک آف پاکستان کی طویل قطاروں میں کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ اب درخواست گزار "Passport Fee Asaan” موبائل ایپ یا Paymaster.

com.pk ویب پورٹل کے ذریعے کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی پاسپورٹ فیس ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی

 اس اقدام کا مقصد عوام کے لیے پاسپورٹ کے اجرا کے عمل کو آسان اور مؤثر بنانا ہے۔

ترجمان کے مطابق ادائیگی کے لیے صارف کو پہلے "Payment Slip ID (PSID)” جنریٹ کرنا ہوگا، جو Passport Fee Asaan ایپ (اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں پر دستیاب) یا Paymaster ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فیس کی ادائیگی انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم، ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے بھی ممکن ہے، جس میں صارف کو 1Bill آپشن منتخب کرکے PSID نمبر سے پہلے 999999 درج کرنا ہوگا۔

پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ اور جائیداد کی لیز پر عائد ٹیکس معطل کر دیا 

 آن لائن ادائیگی مکمل ہونے کے بعد، درخواست گزار اپنے قریبی پاسپورٹ آفس جا کر درخواست کا بقیہ عمل مکمل کر سکتے ہیں، بغیر بینک کی قطار میں انتظار کیے۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری