Jasarat News:
2026-06-03@02:45:32 GMT

سائنسی تجربے کے تحت 36 افراد رضاکارانہ طور پر زندہ دفن

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انسان سائنسی تحقیق کے لیے زندہ دفن ہونے جیسے خوفناک تجربے سے بھی گزر سکتا ہے؟ اٹلی میں ہونے والا ایک حیرت انگیز تجربہ اسی جرات مندانہ عمل کی مثال بن گیا، جہاں 36 رضاکاروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ایک ایسی ڈیوائس کی آزمائش میں حصہ لیا جو برفانی تودوں کے نیچے دبے افراد کو سانس لینے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ تجربہ جنوری سے مارچ 2023 کے دوران اٹلی کے ایک برف پوش علاقے میں کیا گیا۔ ہر رضاکار کو تقریباً 50 سینٹی میٹر گہرائی تک برف کے نیچے دفن کیا گیا اور اس دوران اُن کی صحت کی نگرانی جدید آلات سے کی جاتی رہی۔ تجربے میں شامل تمام افراد کی عمریں 18 سے 60 سال کے درمیان تھیں اور وہ مکمل طور پر صحت مند تھے۔

رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا—ایک گروپ کے پاس “سیف بیک” (SafeBCK) نامی ڈیوائس موجود تھی، جبکہ دوسرا گروپ اس کے بغیر تھا۔ یہ جدید ڈیوائس برف کے اندر سے ہوا کھینچ کر براہِ راست سانس کی نالی تک پہنچاتی ہے، جس سے آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھنے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ اسے چلانے کے لیے کسی اضافی آکسیجن سلنڈر یا ماؤتھ پیس کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نتائج حیران کن رہے، جن رضاکاروں نے سیف بیک کا استعمال کیا، وہ برف کے نیچے اوسطاً 35 منٹ تک زندہ رہے، جبکہ بغیر ڈیوائس والے رضاکار صرف 6 منٹ بعد ہی دم گھٹنے کے قریب پہنچ گئے۔ تجربے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈیوائس والے گروپ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 1.

3 فیصد رہی، جب کہ دوسرے گروپ میں یہ 6.1 فیصد تک جا پہنچی۔

محققین کا کہنا ہے کہ برفانی تودے گرنے سے ہونے والی زیادہ تر اموات پہلے 35 منٹ میں دم گھٹنے کے باعث ہوتی ہیں، اور اگر اس عرصے میں سانس لینے کا وقت بڑھایا جاسکے تو سیکڑوں زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

یہ انوکھا تجربہ نہ صرف انسانی حوصلے کی مثال ہے بلکہ جدید سائنسی اختراع کی ایک امید افزا جھلک بھی—ایک ایسی ٹیکنالوجی جو مستقبل میں زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں