پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ کے پی کی عمران خان سے ملاقات کیلیے قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعلیٰ کے پی کی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین کی زیر صدارت اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی شرکت کی۔
وزیراعلیٰ کی آمد پر تمام اراکین نے اُن کا پرتپاک استقبال اور خیر مقدم کیا، ملاقات میں سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ سے ملاقات اور 27ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر سیاسی و تنظیمی امور پر گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ قومی اسمبلی کے فورم پر اٹھانے اور قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا جس پر تمام اراکین نے دستخط بھی کردیے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تمام نیوز ورکرز کا مشکور ہوں، پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آیا ہوں، بانی سے ملاقات نہ کروائے جانے پر پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، احکامات پر عمل نہ ہوا، عدالت کے حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی، جمہوری راستے اختیار کر رہا ہوں، لیڈر سے ملاقات میرا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم، پارلیمنٹ ہے میں بانی سے ملاقات کے لیے آواز اٹھاؤں گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ہے اور ہم صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کریں گے جبکہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوریت اور آئین کی محافظ ہے، وفاقی حکومت کے پاس این ایف سی شیئر خیبرپختونخوا کا 19.
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری برقرار رہنی چاہیے، صوبوں کو ان کے جائز حقوق ملیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، ہمارے شہداء نے ملک کے لیے جانیں قربان کیں۔
قربانیاں دینے والے صوبے کی قدر کرنی چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی کے
صوبائی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات صوبائی خودمختاری سہیل ا فریدی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ کا فیصلہ کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔