لیڈر سے ملاقات میرا حق،صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ منظور نہیں:سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لیڈر سے ملاقات میرا حق،صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ منظور نہیں:سہیل آفریدی
اسلام آباد :(دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ منظور نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا،عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ لیڈر سے ملاقات میرا حق ہے، جمہوری راستے اختیار کر رہا ہوں، پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، عمران خان سے ملاقات کیلئے آواز اٹھاؤں گا، کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جاؤں گا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری پر کوئی حملہ برداشت نہیں کریں گے، جمہوریت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے، تحریک انصاف جمہوریت اور آئین کی محافظ ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اسمبلی میں آنے کا مقصد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے قرارداد کی منظوری ہے، سپیکر سے بھی کہوں گا کہ عمران خان سے ملنا ضروری ہے اور آئینی ترمیم کیلئے بھی لیڈر کی ہدایت لینا ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صوبائی خودمختاری پر سہیل ا فریدی سے ملاقات کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔