سندھیانی تحریک کا سندھ بچائو مارچ کیلیے آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھیانی تحریک کی جانب سے 16 نومبر کو حیدرآباد میں اعلان کردہ‘‘سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ’’کے سلسلے میں سندھ بھر میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف دیہاتوں اور شہروں کے دوروں کا شیڈول بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ماروی سندھُو، مرکزی رہنما حسنہ راہوجو، شمشاد لغاری، ساجدہ اور ایڈووکیٹ ریحانہ جتوئی نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کیا۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم، کارپوریٹ فارمنگ، نہروں، معدنی وسائل پر قبضوں، قبائلی دہشت گردی، کاروکاری اور عورتوں پر ظلم کے خلاف 16 نومبر کو سٹی گیٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک ہزاروں سندھیانیاں مارچ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کو نئے صوبے بنانے کا اختیار دیا جا رہا ہے، جو مظلوم قوموں کے وجود کو مٹانے کی سازش ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا آرڈیننس ترمیمی ایکٹ جیسے سیاہ قوانین کے ذریعے عدلیہ اور میڈیا کو قید کرنے کے بعد اب پارلیمنٹ کو یرغمال بنا کر 27ویں ترمیم لائی جا رہی ہے، جو‘‘ون یونٹ’’سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سندھی قوم اپنی سرزمین کی تقسیم ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور 27ویں ترمیم، کارپوریٹ فارمنگ سمیت تمام سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف جدوجہد کی جائے گی۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے جاگیرداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبے میں آئین و قانون کو معطل کر چکی ہے۔ قبائلی سرداروں کی سرپرستی میں ڈاکو راج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ‘‘کچے کے ڈاکوؤں کی سرنڈر ڈرامہ’’سندھ کے امن و امان کو مزید تباہ کرنے کی سازش ہے۔ نیٹو کے اسمگل شدہ جدید اسلحہ اب بھی ڈاکوؤں کے پاس موجود ہیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ وضاحت کریں کہ ڈاکوؤں سے جدید اسلحہ کیوں نہیں لیا گیا؟ رہنماؤں نے کہا کہ حکمران جماعت کے قبائلی سردار ڈاکوؤں کے سرپرست ہیں جن کے کہنے پر یہ سرنڈر ڈرامہ رچایا گیا تاکہ عوام کی امن و بحالی کی جدوجہد کو ختم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔