data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھیانی تحریک کی جانب سے 16 نومبر کو حیدرآباد میں اعلان کردہ‘‘سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ’’کے سلسلے میں سندھ بھر میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف دیہاتوں اور شہروں کے دوروں کا شیڈول بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ماروی سندھُو، مرکزی رہنما حسنہ راہوجو، شمشاد لغاری، ساجدہ اور ایڈووکیٹ ریحانہ جتوئی نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کیا۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم، کارپوریٹ فارمنگ، نہروں، معدنی وسائل پر قبضوں، قبائلی دہشت گردی، کاروکاری اور عورتوں پر ظلم کے خلاف 16 نومبر کو سٹی گیٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک ہزاروں سندھیانیاں مارچ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کو نئے صوبے بنانے کا اختیار دیا جا رہا ہے، جو مظلوم قوموں کے وجود کو مٹانے کی سازش ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا آرڈیننس ترمیمی ایکٹ جیسے سیاہ قوانین کے ذریعے عدلیہ اور میڈیا کو قید کرنے کے بعد اب پارلیمنٹ کو یرغمال بنا کر 27ویں ترمیم لائی جا رہی ہے، جو‘‘ون یونٹ’’سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سندھی قوم اپنی سرزمین کی تقسیم ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور 27ویں ترمیم، کارپوریٹ فارمنگ سمیت تمام سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف جدوجہد کی جائے گی۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے جاگیرداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے صوبے میں آئین و قانون کو معطل کر چکی ہے۔ قبائلی سرداروں کی سرپرستی میں ڈاکو راج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ‘‘کچے کے ڈاکوؤں کی سرنڈر ڈرامہ’’سندھ کے امن و امان کو مزید تباہ کرنے کی سازش ہے۔ نیٹو کے اسمگل شدہ جدید اسلحہ اب بھی ڈاکوؤں کے پاس موجود ہیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ وضاحت کریں کہ ڈاکوؤں سے جدید اسلحہ کیوں نہیں لیا گیا؟ رہنماؤں نے کہا کہ حکمران جماعت کے قبائلی سردار ڈاکوؤں کے سرپرست ہیں جن کے کہنے پر یہ سرنڈر ڈرامہ رچایا گیا تاکہ عوام کی امن و بحالی کی جدوجہد کو ختم کیا جا سکے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارکان پارلیمنٹ کی رہائش کیلیے فیملی سوٹس؛ بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ