آزادکشمیر کی 78سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے ،جو پچھلے ڈیڑھ سال میں خراب ہوئے ،سردارتنویر الیاس
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
مظفرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنما سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی 78سالہ سیاسی تاریخ میں ایسے حالات کبھی بھی نہیں تھے ،جو پچھلے ڈیڑھ سال میں آزادکشمیر میں حالات خراب ہوئے ہیں ،آزادکشمیر میں اس وقت چھ سات آئینی عہدے ہیں جن پر کوئی سربراہ مقرر نہیں کئے گئے،آزادکشمیر میں کوئی محکمہ نہیں بچا ہے، آزادکشمیر کی پولیس نے کبھی ہڑتال نہیں کی لیکن پولیس بھی سڑکوں پر آئی،آزادکشمیر کے ڈاکٹر سڑکوں پر ہیں اور آزادکشمیر کا عام آدمی بھی سراپا احتجاج ہے۔
لاہور ہائیکورٹ: نجی کار ساز کمپنی کیخلاف مسابقتی کمیشن کی انکوائری درست قرار
ایک نیوز کے پروگرام فرنٹ لائن میں میزبان ثنا مرزا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ آزادکشمیر میں فارورڈ بلاک پیپلزپارٹی، ن لیگ کو ملا کرحکومت چل رہی تھی،لیکن دو پارٹیوں کے پاس نہ کوئی کام کی وزارتیں تھیں نہ ان کے کوئی خاص ذمہ داریاں اور اختیارات تھے،اختیارات سارے فارورڈ بلاک اور چودھری انوارالحق کے پاس تھے اورا ن کے کاموں کی سزا سارے پولیٹیکل سسٹم کو مل رہی تھی،ان کے جو وزرا تھے وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔
سابق وزیراعظم آزادکشمیر کاکہناتھا کہ چودھری انوارالحق دعویٰ کر رہے تھے کہ اسمبلی میں قائد ایوان لانے کیلئے آپ کواسمبلی کے اندر 27 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے،جو پارٹی اپنے 27ارکان ثابت کردے وہ اپنا قائدایوان منتخب کر سکتی ہے،ان کا دعویٰ تھا کہ ایک چائے پر جب آپ 27لوگوں کا فوٹو ہمارے ساتھ شیئر کریں گے تو میں اپنی چارد اٹھا کر گھر چلا جاؤں گا، پیپلزپارٹی نے اپنے 27ارکان ظاہر بھی کردیئے ہم امید کررہے تھے کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں گے لیکن ابھی تک انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔
کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو متروکہ املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا گیا
پی پی رہنما کامزید کہناتھا کہ میرا خیال ہے چودھری انوارالحق اس پوزیشن نہیں رہے کہ وہ کوئی مذاکرات کر سکیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی قائد ایوان کیلئے سادہ اکثریت ثابت کرچکی ہے۔
ان کاکہناتھا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ سے کہا تھا کہ ہم آپ کو ووٹ دے سکتے ہیں لیکن ہم وزارتیں نہیں لیں گے،پیپلزپارٹی کو اس وقت ووٹ کی ضرورت نہیں ہے،وزیراعظم کی جانب سے پیپلزپارٹی کی حمایت کا ااعلان کیا گیا ہے،ان کاکہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اسمبلی کے اندر بڑی سیاسی جماعت ہے اس کو حکومت بنانی چاہئے۔
پشاور میں تہرے قتل کی واردات، 2 خواتین سمیت 3 افراد تیز دھار آلے سے قتل
سردار تنویر الیاس کاکہناتھا کہ آزادکشمیر انتشار کی طرف جا رہا ہے وہاں پر سیاسی نظام کو بحال کرنا بہت ضروری ہے،ہماری قیادت نے کل آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا ہے،ہو سکتا ہے وہ ہمیں بتایا کہ عدم اعتمادم کی تحریک کب پیش کرنی ہے،چودھری انوارالحق نے تو جانا ہے وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چودھری انوارالحق ا زادکشمیر کی
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار