پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کر لیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ میں بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر پارلیمانی گروپ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال سے متعلق بات چیت ہوئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور پیپلز پارٹی پاکستان کا انتہائی اجلاس ختم ہوگیا، جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کی تبدیلی پر مشاورت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے متفق ہو گئی ہے، وزیراعظم انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد لانے کے لیے نمبر گیم مکمل ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کی ممکنہ تبدیلی کے بعد وزیراعظم کے نام پر بھی مشاورت کی گئی، پیپلز پارٹی آج صدر زرداری کو مشاورت میں سامنے آنے والے والی تجاویز سے آگاہ کرے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے چوہدری یاسین، چوہدری لطیف اکبر اور سردار یعقوب وزیراعظم کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔

ادھر، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں آزاد کشمیر میں جاری سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تمام ممبران نے چیئرمین پیپلزپارٹی کوکھل کر اپنی آرا سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی مزید مشاورت کے لیے صدر مملکت کے پاس ایک نشست کرے گی، اس میں ہم حتمی فیصلہ کریں گے، ہماری ابتدائی مشاورت ہو گئی ہے، اس کی تفصیل سے آگاہ فائنل اجلاس کے بعد ہی کریں گے۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت بنائی جاتی ہے، تو اس کے لیے نمبرز پورے ہوتے ہیں تو کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے ذریعے سنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا کوئی فیصلہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے، ابھی تک باضابطہ طور پر انہوں نے اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا انوار الحق کو تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا وہ ریاست کے بہترین مفاد میں کام نہیں کررہے تھے؟ اس کے جواب میں قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آپ کا سوال قبل از وقت ہے، میں نے اب تک ایسے عندیے کا اظہار نہیں کیا، میں نے تو یہ کہا کہ آزاد کشمیر میں جو صورتحال ہے، اس پر تفصیلی خیالات کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یقیناً آزاد کشمیر میں جو صورتحال بنی ہے، وہاں جو عوامی ابھار آئے ہیں، وہ بڑے پریشان کن ہیں، ہر جماعت اس سے پریشان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی انوار الحق انہوں نے کے خلاف کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو