مالی بدعنوانی سے پاک معاشرہ ہی ملکی ترقی، خوشحالی اور معیشت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کو یقینی بناتا ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
سٹی 42: وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں عالمی انسداد بدعنوانی کے حوالے سے تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کہاقومی احتساب بیورو (NAB) کی مالی بد عنوانی کے خاتمے کے لیے کاوشیں اور غیر معمولی کامیاب کارروائیوں کے لیے لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد اور تمام ٹیم خراج تحسین کی مستحق ہے۔
وزیراعظم نے کہا نیب کو مکمل ادارہ جاتی آزادی حاصل ہے کہ شفافیت سے اپنا کام جاری رکھ سکے کیونکہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔ پاکستان انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر اس عزم کی تجدید کرتا ہے کے مالیاتی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کو مزید منظم انداز میں جاری رکھے گا۔2025 میں یہ دن"نوجوانوں کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے خلاف: ایماندار باعزت مستقبل کی بنیاد" کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔ یہ عنوان پاکستان کی نوجوان آبادی کو اس کار خیر میں شامل کرنے کی اہمیت کو بھرپور اجاگر کرتا ہے۔ پاکستانی نوجوان ہمارا بیش قیمت اثاثہ ہیں اور پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی ضمانت ہیں۔ مالی بدعنوانی سے پاک معاشرہ ہی ملکی ترقی، خوشحالی اور معیشت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کو یقینی بناتا ہے ۔تمام حکومتی منصوبوں اور اقدامات میں مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پنجاب نے تمام صوبوں سے زیادہ 16.
عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب کی غیر معمولی کارکردگی پر ادارے کے افسران اور قیادت کی تحسین کی۔ وزیراعظم نے اس بات کو واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے لیۓ مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام اور کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بدعنوانی کے مضر معاشرتی اثرات کی حوصلہ شکنی اور بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے اپنے عزم کی تجدید کریں۔
ای سی سی کا پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز اور او ایم سیز مارجنز میں 5 تا 10 فیصد اضافہ منظور
وزیراعظم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور طریقے سے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں تاکہ ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے نیب کی کاروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منظم مالی جرائم کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہونے والے شہریوں کی بروقت داد رسی سے نیب پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔
تقریب سے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بھی خطاب کیا اور نیب کی حالیہ چند سالوں اور بالخصوص اس سال میں کارکردگی پر وزیراعظم اور حاضرین کو بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ باہمی اور موثر تعاون سے نیب نے 2025 میں 5.1 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر معمولی وصولیاں ممکن بنائیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 2022 کے بعد سے قومی احتساب بیورو میں اصلاحاتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے ہیں جس سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کاعالمی دن وزیراعظم ہاؤس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ احتساب اور جوابدہی حکومت کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں.
پنجاب اسمبلی نے پی ٹی آئی اور بانی پر پابندی کی قرارداد منظورکرلی
تقریب کے اختتام پر نیب کی غیر معمولی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرنے والے نیب افسران کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔وزیر اعظم نے اعلی کارکردگی دکھانے والے نیب افسران کو انعام کے طور پر تین اعزازیہ یا عمرے کی ادائیگی کاموقع فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں.
تقریب میں UNODC کے نمائندے نے اقوام متحدہ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آف یوتھ افیئرز فلپ پولیر کا پیغام پڑھ کر سنایا. تقریب میں نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نزیر تارڑ، نیب کے افسران، ڈی جی ایف آئی۔ اے۔، ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، سرکاری افسران اور دیگر شرکاءنے شرکت کی۔
کسٹمز کی کارروائی ؛ کروڑوں کی اسمگل شدہ اشیا ضبط
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انسداد بدعنوانی وزیراعظم ہاؤس احتساب بیورو بدعنوانی کے چیئرمین نیب غیر معمولی وفاقی وزیر نے کہا کہ کو یقینی نیب کی
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔