خیبرپختونخوا: غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی میں سست روی، محکمہ داخلہ برہم
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پشاور(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائیاں تیز کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دیں۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں موجود غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف مؤثر آپریشن نہ ہونے پر شدید برہمی ہے اس لیے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ کرائے کے گھروں میں مقیم افغان باشندوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق افغان مہاجرین کے لیے قائم کیمپ صوبائی حکومت کے لیے مالی بوجھ بن چکے ہیں اس لیے انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ حکومت مزید اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔
محکمہ داخلہ نے مزید کہا ہے کہ غیر قانونی افغان شہریوں کا مکمل ڈیٹا ضلعی پولیس افسران کو فراہم کر دیا جائے اور جہاں ڈیٹا مرتب ہو چکا ہے اسے متعلقہ محکموں کے حوالے کر کے کارروائیاں شروع کی جائیں۔
واضح رہے کہ صوبے بھر میں غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے جس پر محکمہ داخلہ نے تمام اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیر قانونی افغان افغان باشندوں محکمہ داخلہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔