افغان ہمارے مہمان نہیں، واپس چلے جائیں،دھماکے برداشت نہیں کر سکتے ، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پر 90 فیصد فیک نیوز ہیں، جلد کریک ڈاؤن ہوگا،کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے ،بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا، محسن نقوی
تینوں صوبوں میں افغان باشندوں کیخلاف کارروائی جاری ، پختونخوا میں تحفّظ دیا جا رہا ہے، جو قومی سلامتی کے تقاضوں کیخلاف ہے،سیاست اپنی جگہ کوئی صوبہ اپنی مرضی کی پالیسی نہیں اپنا سکتا، میڈیاسے گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد فیک نیوز چل رہی ہیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں ، اب سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے،جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے ، فیک نیوز کی اجازت نہیں ،کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے کہ اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے ،بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا، تینوں صوبوں میں افغان باشندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے تاہم خیبر پختونخوا میں انہیں تحفّظ دیا جا رہا ہے، جو قومی سلامتی کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اسلام آباد خودکش حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جتنے حملے ہوئے ان میں افغانی ملوث نکلے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے،غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں،افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل میڈیا پر غلط خبر چلتی ہے تو پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر تصویر لگائیں، جو دل کرے وہ خبر چلائیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں۔انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں کہ آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے لیکن آزادی اظہار رائے اہمیت رکھتی ہے لیکن فیک نیوز کی اجازت نہیں، اب سوشل میدیا پر غطل خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کررہا ہے کہ اداروں میں مسئلہ چل رہا ہے لیکن جو لوگ باہر بیٹھیں ہیں انہیں بتادوں، آپ سب بہت جلد واپس آرہے ہیں، بہت جلد آپ یہاں آئیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ملک میں افغان باشندوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں، پنجاب، بلوچستان اور سندھ سے افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے تاہم افغان باشندوں کے معاملے پر خیبرپختونخوا میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا میں افغان شہریوں کو تحفظ دیا جارہا ہے لیکن افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، افغان باشندوں سے درخواست ہے باعزت طریقے سے اپنے وطن لوٹ جائیں۔محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد خودکش حملے میں افغان شہری ملوث تھے، اس کے علاوہ جتنے حملے ہوئے ان میں افغانی ملوث نکلے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر تک 4 لاکھ افغان باشندوں کو طورخم بارڈر سے واپس بھیجا، اب جوبھی افغان واپس پاکستان آنیکی کوشش کرے گا تو گرفتار کرلیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں اور قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے معاملے پر کوئی قومی سلامتی کے افغان باشندوں سوشل میڈیا پر میں افغان محسن نقوی نے کہا کہ فیک نیوز بہت جلد رہا ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔