لاہور (آئی این پی+نیٹ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپریل2025 ء تک11 لاکھ غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس بھیج چکی ہے، جن میں سے4 لاکھ افراد کو طورخم بارڈر کے ذریعے واپس بھیجا گیا، تینوں صوبوں سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ خیبر پی کے میں ان کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ خیبر پی کے کی حکومت کو بھی بار بار یہ پیغام دے رہے ہیں۔ آپ پہلے اپنے ملک کا سوچیں، اس کے بعد اپنی سیاست کریں، ہر صورت وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل کرانا پڑے گا، یہ نہیں ہو سکتا قومی سلامتی کے معاملہ پر آپ کا جو دل کرتا ہے کریں۔ اسکی اجازت نہیں دینگے‘ مزید بم دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے، ہر صورت ان کو واپس بھیجیں گے، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں کہ آزادی اظہار رائے ہونی چاہئے۔ تنقید کریں لیکن پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر90  فیصد خبریں غلط چل رہی ہیں، کسی کی تصویر لگا کر جو دل کرے خبر چلا رہے ہیں، اِس کی ہم اجازت نہیں دیں گے، اس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا  اسلام آباد خودکش حملے اور کیڈٹ کالج پر حملے میں افغان ملوث تھے جبکہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں افراد بھی افغان نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانوں کو واپس بھجوانے کے حوالے سے خیبر پی کے میں صورت حال مختلف ہے اور وہاں سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔ غیرقانونی طور پر مقیم افغان خود ہی عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ ہم کسی افغان شہری کو واپس بھجیں وہ واپس آئے اور پھر واپس بھجیں، اب اس کو گرفتار کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔ اس کے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ خیبر پی کے میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگائی جا رہی ہے کہ وہ افغان شہریوں کو ڈھونڈیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے اور سب کو ہر حال میں بھیجیں گے۔ ملک میں جتنے بھی حملے ہوئے ان میں افغان ملوث ہیں اور سارے خودکش حملہ آور افغانستان سے آ رہے ہیں۔ ہم خیبر پی کے کی حکومت کو بھی بار بار یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس وقت ضروری بات یہ ہے کہ آپ پہلے اپنے ملک کا سوچیں، اس کے بعد اپنی سیاست کریں۔ ان کو ہر صورت وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل کرانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہم یہ دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے۔ پشاور اور نوشہرہ میں قائم کیے گئے کیمپس باقاعدہ نوٹیفائی کیے گئے ہیں، جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیمپس اب بھی فعال ہیں۔ ایئرپورٹ پر مسافروں کو روکے جانے کے حوالے سے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ50  سے60  افراد کو روزانہ آف لوڈ کیا جاتا ہے اور ایف آئی اے تمام ریکارڈ میڈیا کے ساتھ شیئر کرے گی۔ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی بھی تصویر لگا اور فیک نیوز بنا کر چلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بارے میں آج صبح وزیر اطلاعات سے بات ہوئی ہے۔ اگر شواہد موجود ہیں تو خبر دیں لیکن اگر نہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی زندہ کو مار دیں اور کسی مرے ہوئے کو زندہ کر دیں اور کوئی آپ کو کچھ نہ کہے۔ سوشل میڈیا پر 90 فیصد جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ بعض ایجنٹس غلط مہم چلا رہے ہیں، لیکن کچھ بھی ہو حکومت کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے نہیں دے گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم اپنے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو صحیح نوکری پر بیرون ملک جا رہا ہے وہ بالکل جائے، انکو نہیں روکا جائے گا۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک شخص ڈرائیونگ کے شعبے میں سعودی عرب جا رہا تھا جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں تھا اور اسے گاڑی چلانا بھی نہیں آتی تھی۔ ہمیں اپنے سسٹم کو بھی درست کرنا ہو گا۔ افغان ہمارے مہمان تھے لیکن اب نہیں۔ طالبان حکومت دہشتگردوں کو لگام دے۔ سوشل میڈیا پر 90 فیصد خبریں غلط چل رہی ہوتی ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ جو چاہیں سوشل میڈیا پر چلا دیں، سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن ہو گا۔ نیشنل میڈیا پر غلط خبر نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن فیک نیوز پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کر رہا ہے کہ اداروں میں یہ مسئلہ چل رہا ہے، اگر آپ کے پاس ثبوت ہے تو ضرور سامنے لائیں۔ جو لوگ باہر بیٹھے ہیں انہیں بتا دوں کہ آپ لوگ بہت جلد واپس آ رہے ہیں، بہت جلد آپ کو یہاں لائیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا ہم ٹی وی چینلز کو کیوں غلط نہیں کہتے کیونکہ وہ ایک سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، اگر کوئی ٹی وی چینل غلط خبر چلاتا ہے تو اس کو جرمانہ ہوتا ہے، جو فیک نیوز پھیلا رہا ہے ان کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ بولے آئین میں ایک چیز ہوئی ہے، ایک نیا ادارہ بن رہا ہے، ایک بٹن دبانے سے تو کام نہیں ہوتا، سسٹم بننے میں وقت لگتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ بٹن دبائیں اور ایک گھنٹے میں کام ہو جائے، یہ کہتے ہیں کہ چیف کا بھی ایسے ہی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: یہ نہیں ہو سکتا اجازت نہیں دی سوشل میڈیا پر وزیر داخلہ خیبر پی کے نے کہا کہ انہوں نے فیک نیوز کو واپس رہے ہیں ہے اور رہا ہے جا رہا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار