پاکستان آئیڈل: فیصل آباد کی 14 سالہ فریال نے میلہ لوٹ لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پاکستان آئیڈل کے بڑے پلیٹ فارم پر سیکڑوں آوازوں کے درمیان ابھرنے والی باصلاحیت کم عمر گلوکارہ فریال امبر اپنی سریلی آواز سے سب کو متاثر کر رہی ہیں۔
فیصل آباد کے گاؤں 3 چک رام دیوالی سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ فریال امبر نے مشکل گیت گا کر ایسے سُر بکھیرے کہ بڑے بڑے گلوکار بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔
وہ اس وقت تمام 16 اُمیدواروں میں کم عمر ترین گلوکارہ ہیں، پاکستان آئیڈل کے آڈیشن میں شاندار پرفارمنس کے بعد جب وہ ’گولڈن مائیک‘ لے کر اپنے گاؤں پہنچیں تو اُن کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
فریال نے کہا کہ مجھے بچپن سے گانے کا شوق تھا، 6 برس کی عمر میں گنگنانے سے سفر شروع کیا اور ملی نغمے سے آغاز کیا، میں غزل، گیت اور کلاسیکل گا لیتی ہوں، یہ اوپر والے کا کرم ہے کہ میں ہر چیز بہت جلدی پک کر لیتی ہوں۔
فریال امبر نے 9 برس کی عمر میں استاد شفیق علی خان سے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔
فریال کے والدین نے اپنی بیٹی کی خوبصورت آواز، گیت گنگنانے کے شوق کے پیشِ نظر بچپن سے ہی اس کی گائیکی کا انتظام کر رکھا ہے جو اپنی بیٹی کے ’پاکستان آئیڈل‘ میں 16 بہترین گلوکاروں میں شامل ہونے پر بہت زیادہ خوش ہیں۔
اُن کے والد ناصر کا کہنا ہے کہ بہت خوش ہوں کہ بیٹی ٹاپ 16 میں شامل ہو گئی ہے، اس میں بیٹی کی محنت، لگن اور گھر والوں کی بھرپور سپورٹ بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پردے کے پیچھے بے شمار کوششیں شامل ہوتی ہیں جن سے یہ سفر ممکن ہوا۔
فریال کے استاد شفیق علی خان نے بھی اپنی شاگرد کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ فریال آئندہ مرحلوں میں مزید کامیابیاں سمیٹے گی۔
اگرچہ گالہ راؤنڈ میں بیماری کے باعث وہ اسٹیج پر نہ آ سکیں، تاہم فریال امبر ٹاپ 16 امیدواروں میں شامل ہیں اور آئندہ مقابلوں میں بہترین پرفارمنس کے لیے دن رات ریاض میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان ا ئیڈل فریال امبر فریال ا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔