’’اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف سے بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے‘‘سینیٹر فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف سے بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران فیصل واوڈا نے کہا اگر اشتعال والی باتیں کریں گے تو کیا نظام آپ کو اجازت دے گا؟ گورنر راج لگے گا تو دو ماہ کا نہیں ہوگا، برقرار ہی رہے گا۔
بہنیں سیاسی پیغامات لاتی رہیں تو عمران خان کی آگے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی: فیصل واوڈا
انہوں نے کہا اگر گورنر راج لگا تو پھر آپ کو کیا حاصل ہوگا؟ گورنر راج سامنے ہے اور گورنر راج کے لیے حکمت عملی بھی موجود ہے۔
پاکستان انوسٹرز فورم کے عہدیداروں کی حلف برداری اور قونصل جنرل خالد مجید کیلئے الوداعی تقریب
سینیٹر فیصل واوڈا نے یہ بھی کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے سیاسی ملاقاتیں اب نہیں ہوں گی، ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی باتیں کرنے والے ساڑھے 400 لوگ بھی نہیں نکال پا رہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا افسر کی شہادت کے بعد دادرسی کے لیے ان کے اہلخانہ کے پاس جانے کے بجائے امریکی حکام سے ملتے رہے جن کی غلامی نا منظور کا بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نعرہ لگایا تھا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا گورنر راج پی ٹی آئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔