پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے، ہمیشہ مشکل حالات میں ڈیلیور کیا، فیصل راٹھور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ہماری حکومت کو مرکزی قیادت اور وفاقی حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے کیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے، وطن عزیز اور جمہوریت کے لیے اس جماعت نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کسی اور جماعت نے نہیں دی، ہماری جماعت کا تعلق کشمیر کے ساتھ سب سے مضبوط ہے، بلاول بھٹو زرداری نے جو نعرہ لگایا وہی نعرہ ہمارا ہے، ریاست کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں، اس بداعتمادی کی فضا میں حکومت سنبھالنا انتہائی مشکل تھا لیکن آزاد کشمیر کے وسیع تر مفاد میں ہم نے یہ مشکل فیصلہ کیا، انشاءاللہ ہم اس مختصر دورانیہ کے دوران اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوبارہ حکومت بنائیں گے، ہم نے اس سفر کا آغاز 13 سیٹوں سے کیا اور آج بھرپور قوت کے ساتھ حکومت بنائی، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مشکل حالات میں ڈیلیور کیا ہے، ہماری حکومت کو مرکزی قیادت اور وفاقی حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے۔ انشاءاللہ یہ حکومت 2026ء کا الیکشن جیت کر عوامی خدمت جاری رکھے گی۔
مسلح افواج کے جوانوں، جو اس یخ بستہ حالات میں بھی ہماری حفاظت پر مامور ہیں، کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ایل او سی کے عوام نے پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کیا جس پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، کیل انٹر کالج کی بطور ایسوسی ایٹ کالج، کیل بگنواں کے لیے مڈل سکول، شونٹھر مڈل سکول، سٹاف کے معاملات کے حل، شونٹھر کیلئے 15 کلومیٹر سڑک، اڑنگ کیل کی سیوریج کے لیے پی سی ون بنانے کا حکم، بوائز ہائی سکول پھولاوئی کو ہائر سیکنڈری، بوائز مڈل سکول تائوبٹ کو ہائی سکول، پھولاوئی تا تائوبٹ 05 کلومیٹر سڑکوں کا اعلان کرتا ہوں، جس طرح آپ نے ہم پر اعتماد کیا، نوجوانوں کیلئے پروگرام کا آغاز کریں گے جس سے ان کے روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے، بھرپور استقبال پر اہلیان نیلم کا شکرگزار ہوں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے کیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب آمد پر وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ شدید سرد موسم میں بھی کارکنوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر خطاب وڈیو لنک کے ذریعے سنا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اہلیان کیل کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر کیل ریسٹ ہائوس میں عوام علاقہ کے وفود نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور مسائل سے آگاہ کیا۔ موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید اور وزراء حکومت سردار جاوید ایوب بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ یونین کونسل کیل اور سرگن کے کارکنان نے استقبال کیا، میں اس پر آپ کا شکر گزار ہوں، یونین کونسل گریس کے کارکنان جو طویل سفر طے کر کے یہاں آئے میں ان کا بھی شکرگزار ہوں، پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر کے نظام کو بچانے کیلئے حکومت لی، ایک طرف ہمارے پاس ریاست کے محدود وسائل ہیں جبکہ دوسری جانب مسائل بے تحاشا ہیں، اگر اللہ نے چاہا ہم اس مختصر دورانیہ میں عوام کی خدمت کریں گے، ہمیں عوام کی بے چینی کو دور کرنا ہو گا اور ریاست پر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔