بانی پی ٹی آئی کی آئندہ کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سینئر سیاسی رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آئندہ کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، اگر دھونس اور زبردستی کی سیاست کرنی ہے تو گورنر راج سامنے ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا پہلے ہی کہا تھا کہ 26 نومبرکو کوئی چڑھائی نہیں ہوگی، میں سب کے لیے سیاسی حل چاہتا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا فوجی افسر کی شہادت میں جانے کے بجائے امریکی قونصلیٹ گئے، آج فوجی افسر شہید ہوا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا وہاں جانے کے بجائے امریکی قونصلیٹ گئے۔
یہ بھی پڑھیے ملاقاتیں پہلے ہوجاتیں تو اتنی تشویش نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر عظمیٰ خان کی بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہونے کی تصدیقسینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ مثبت کام ہو، موجودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے عہدے پر رہیں، گورنر اپنا کام کریں اور صوبے کی خدمت ہو۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنا کام کریں اور سیاسی راستہ بنائیں، اگر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاسی پیغامات لائیں گی تو سیاسی ملاقاتیں تصور ہوں گی، بانی کی بہنیں سیاسی پیغامات لاتی رہیں تو یہاں بھی پابندی لگ سکتی ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف سے بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے، اگر اشتعال والی باتیں کریں گے تو کیا نظام آپ کو اجازت دے گا؟ گورنر راج سامنے ہے، گورنر راج کےلیے حکمت عملی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگے گا تو دو ماہ کا نہیں ہوگا، گورنر راج لگا تو پھر برقرار ہی رہے گا تو پھر آپ کو کیا حاصل ہوگا؟
فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ اگر صوبے کو روٹی کپڑا مل گیا، ترقیاتی کام ہوں گے امن مل جاتا ہے تو آپ سیاست سے آؤٹ ہوجائیں گے، آپ ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی باتیں کررہے ہیں، آپ ساڑھے چار سو لوگ بھی نہیں لا پا رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے کہا خیبر پختونخوا بانی پی ٹی گورنر راج پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔