بدمعاشی پر گورنر راج لگے گا، عمران خان کی اب سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سینیئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اگر بدمعاشی اور دھونس کی سیاست کی تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج سامنے ہے۔
مزید پڑھیں: فیملی اور وکلا سے ملاقات عمران خان کا حق، سیاست کی اجازت نہیں دے سکتے، رانا ثنااللہ
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست نے ایک بار خیبرپختونخوا کا معاملہ حل کردیا تو پی ٹی آئی کے پاس رہ کیا جائےگا؟
فیصل واوڈا نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنا کام کریں اور سیاسی راستہ بنائیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا فوجی آفیسر کی شہادت پر جانے کے بجائے امریکی قونصلیٹ گئے، یہ رویے درست نہیں۔
انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اب کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، بہنیں بھی اگر سیاسی پیغامات لاتی رہیں تو ملنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد پر کوئی چڑھائی نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے جیل میں ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو تنہائی میں رکھنا 70 فیصد عوام کو آئیسولیٹ کرنے کے مترادف ہے، بیرسٹر گوہر
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کو سیل میں مکمل بند رکھا جاتا ہے، صرف کچھ دیر کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ملتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کہا ہے کہ یہ جان بوجھ کر ہمیں ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بانی پی ٹی آئی بدمعاشی سہیل آفریدی عمران خان فیصل واوڈا گورنر راج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی فیصل واوڈا گورنر راج وی نیوز انہوں نے کہاکہ فیصل واوڈا گورنر راج پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔