چین کے ساتھ ناردرن سی روٹ کو ترقی دیں گے‘روس
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ ناردن سی روٹ کو ترقی دینے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بیجنگ میں ہونے والے ساتویں روس چین انرجی بزنس فورم میں کہا ہے کہ منصوبے سے چین کو توانائی کی فراہمی کے لیے اضافی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی شراکت داروں کے ساتھ ناردرن سی روٹ کی مشترکہ ترقی خصوصی اہمیت کی حامل ہے، یہ راستہ چین تک توانائی وسائل کی فراہمی کے لئے اضافی مواقع فراہم کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ روس کا ارادہ ہے کہ بیرونی چیلنجز کے تناظر میں چین کو توانائی کی سپلائی کے خطرات کم کیے جائیں، لاجسٹکس کو بہتر بنایا جائے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے۔الیگزینڈر نوواک نے مزید بتایا کہ روس اور چین قابل تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کے ماخذ کی تصدیق اور ایک دوسرے کے قومی سرٹیفکیشن نظاموں کی باہمی پذیرائی پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ہم قابل تجدید توانائی، ہائیڈروجن انرجی، توانائی ذخیرہ کرنے اور کاربن مارکیٹس جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے، ہم نے قابل تجدید ذرائع سے تیار ہونے والی بجلی کے ماخذ کی تصدیق اور بجلی کے شعبے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی نگرانی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔