کیا بھارت افغانستان کے وسائل پر قبضہ جما لے گا؟ نئی سرمایہ کاری پیشکش نے سوالات کھڑے کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
افغانستان نے بھارت کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی خصوصی پیشکش کرتے ہوئے بھارتی کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان افغانستان کے وزیرِ صنعت و تجارت الحاج نورالدین عزیزی نے کیا، جن کے مطابق نئی بھارتی سرمایہ کار کمپنیوں کو پانچ سال تک ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا جائے گا۔
وزیرِ صنعت و تجارت نے کہا کہ بھارت کو ٹیرف سپورٹ کے ساتھ ساتھ زمین بھی فراہم کی جائے گی تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مراعات دینا ضروری ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ، مہنگائی اور بے روزگاری کے شکار افغان عوام کو اس فیصلے سے کوئی فوری فائدہ نہیں پہنچے گا، جبکہ بھارت کو ٹیکس چھوٹ ملنے سے افغانستان کی کمزور معیشت مزید بوجھ تلے آ سکتی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں نے اس پیشکش کو بھارت کے بڑھتے ہوئے خطّی اثرورسوخ سے بھی جوڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔