بی بی سی کے اندر مختلف حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ ادارے کے موجودہ چیئرمین سمیر شاہ جو 2024 میں عہدہ سنبھال چکے ہیں،کے پس منظر، اداراتی فیصلوں اور مبینہ تعلقات کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب تک ان الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، تاہم متعدد اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید جانچ کی ضرورت ہے۔

ان ذرائع کے مطابق سمیر شاہ کی سربراہی کے دوران بعض حساس سیاسی موضوعات مثلاً فلسطین، بھارتی انتظامیہ کے زیرِ قبضہ کشمیر، اور حالیہ امریکی سیاست خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق کوریج میں  غیر معمولی اداراتی جھکاؤ محسوس کیا گیا۔ بعض ملازمین کا دعویٰ ہے کہ بعض فیصلے خطے کی ایسی بیانیہ سازی سے ملتے جلتے تھے جنہیں بھارت کے حق میں تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے غیر مصدقہ ہیں۔

پینوراما پروگرام کا متنازع ایڈیٹ

بی بی سی کے پینوراما پروگرام میں حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ایک ویڈیو چلائی گئی، جس میں وہ اپنے حامیوں کو ٹکراؤ پر اکساتے ہوئے دکھائی دیے۔ اندرونی ناقدین کے مطابق ویڈیو کو مناسب تناظر کے بغیر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے بارے میں ڈاکومنٹری کی متنازع ایڈیٹنگ، بی بی سی کا ایک اور عہدیدار مستعفی

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ادارے کے اندر ٹرمپ انتظامیہ کی کوریج پر اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض ملازمین کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر بھارت امریکا تجارتی کشیدگی کے تناظر میں وسیع تر جغرافیائی سیاسی حساب کتاب سے متاثر ہو سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی کوئی تصدیق نہیں۔

بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات

متعدد بی بی سی ملازمین نے، شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ادارتی عمل پر ممکنہ بیرونی اثر موجود ہو سکتا ہے۔

بعض دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سمیر شاہ کے مبینہ طور پر برطانوی انٹیلیجنس، بھارتی خفیہ ایجنسی (RAW) یا اسرائیلی انٹیلیجنس سے غیر رسمی تعلقات رہے ہوں تاہم ان الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی باضابطہ گواہی سامنے آئی ہے۔

بی بی سی کے سابق مشیر مائیکل پریسکوٹ نے بھی حالیہ تنازعات کو ادارے کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے شاہ کے خلاف کسی مبینہ مداخلت کے شواہد عوام کے سامنے نہیں رکھے۔

اندرونی مزاحمت اور عملے کی بے چینی

اطلاعات کے مطابق بی بی سی کے 100 سے زائد ملازمین نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں ادارتی فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ متعدد ملازمین نے استعفے بھی دیے ہیں اور الزام لگایا ہے کہ بی بی سی کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے دنیا کے معروف نشریاتی ادارے بی بی سی کو ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی کیوں مانگنی پڑی؟

بعض اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ادارتی فیصلوں نے برطانیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان سفارتی تناؤ میں غیر ضروری اضافہ کیا، تاہم یہ دعوے بھی محض اندرونی آراء ہیں۔

ہاؤس آف کامنز میں جواب طلبی

سمیر شاہ اور بی بی سی بورڈ کے دیگر ارکان کو جلد ہاؤس آف کامنز میں پیش ہونا ہے، جہاں حالیہ تنازعات، ادارتی فیصلوں، اور ممکنہ بیرونی دباؤ کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔
تاحال کوئی باضابطہ الزام عائد نہیں کیا گیا، لیکن آئندہ پارلیمانی کارروائی میں مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔

موجودہ صورتحال

مبینہ بھارتی رابطوں اور بیرونی اثر و رسوخ کے حوالے سے لگائے جانے والے بیشتر الزامات غیر مصدقہ، غیر مستند اور اندرونی تشویش پر مبنی ہیں۔ تاہم لگاتار ابھرتے خدشات، ادارتی تنازعات اور پھیلتی ہوئی قیاس آرائیاں سمیر شاہ کی قیادت کو شدید جانچ کے دائرے میں لے آئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتے خصوصاً پارلیمانی سماعت ان سوالات پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سمیر شاہ بھارتی نژاد برطانوی صحافی ہیں۔ وہ مارچ 2024 سے  بی بی سی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بی بی سی سمیر شاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سمیر شاہ بی بی سی کے سمیر شاہ کے مطابق کیا گیا

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک