کراچی:

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی 315 اندرونی سڑکوں اور 60 شاہراہوں کی تعمیر کےلیے 25 ارب روپے منظور کرلیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ منظوری انہوں نے اپنی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں دی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ اور دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہریوں کو خستہ حال انفراسٹرکچر اور ٹریفک جام سے نجات دلانے میں فنڈز رکاوٹ نہیں ہوں گے لیکن تعمیرنو کا کام فوری طور پر شروع ہونا ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے حالیہ بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کی سڑکیں شدید خراب  ہوچکی ہیں، جاری میگا پروجیکٹس بھی ٹریفک مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں، چاہتا ہوں شہر میں ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے میئر سے کہا کہ فنڈز کوئی مسئلہ نہیں؛ میں چاہتا ہوں کہ کام جنگی بنیادوں پر مکمل ہو۔ 

میئر مرتضیٰ وہاب نے انہیں بتایا کہ شہر کی 315 اندرونی گلیاں شدید طور پر خراب ہیں اور فوری مرمت کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام اندرونی سڑکوں کے منصوبوں کی فوری منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر کی 60 بڑی سڑکوں کی تعمیرنو کا منصوبہ ہے، جس پر تقریباً 25 ارب روپے لاگت آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام تعمیراتی کام مکمل اور مربوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو گلیاں تعمیر کی جارہی ہیں اُن کا سیوریج سسٹم درست طور پر بنایا جائے۔ مزید ہدایت دی کہ 60 بڑی سڑکوں کے لیے ڈرینیج سسٹم بھی سڑکوں کے ساتھ ساتھ ہی تعمیر کیا جائے تاکہ آئندہ نقصان سے بچا جا سکے۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ کو کورنگی کاز وے برج اور شارعِ بھٹو ایکسپریس وے کی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا کہ دونوں منصوبے تکمیل کے قریب ہیں اور آئندہ دو ماہ میں ان کے کچھ حصے ٹریفک کے لیے کھول دیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن