بھارت کے وزیر دفاع کی ہرزہ سرائی پر شیری رحمان کا منہ توڑ جواب
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
سٹی42: سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر کے اشتعال انگیز بیانات کیسخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی وزیر کی باتیں اشتعال انگیز اور ناقابلِ برداشت ہیں۔
شیری رحمان نے کہا، سندھ وہ پہلی صوبائی اسمبلی تھی جس نے 1947 سے پہلے پاکستان میں شمولیت کی قرارداد منظور کی تھی۔برطانوی دور میں سندھ نے بمبئی پریزیڈنسی میں ضم ہونے کی مزاحمت کرتے ہوئے 1 اپریل 1936 کو علیحدگی حاصل کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سعودی عرب پہنچ گئے ؛ سعودی ہم منصب سے ملاقات
شیری رحمان نے کہا، بھارت کے وزیر دفاع کے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کی نئی کوشش ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سینئیر لیڈر نے کہا، ہندوستان کو اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔شیری رحمان نے یاد دلایا کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کشمیر کےمسئلے کا منصفانہ حل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، پاکستان پرامن اور قانونی مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کی دفاع جاری رکھے گا۔
ٹرین جعفر ایکسپریس پر ایک اور حملہ ہو گیا
شیری رحمان نے کہا، خطے میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تعمیل ضروری ہے،۔
انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کو خبردار کیا کہ انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ بیانیے سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا، پاکستان کا موقف ہمیشہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی رہا ہے۔خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔