غزہ امن منصوبہ: حماس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرار داد کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کردیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آج سلامتی کونسل میں نہ صرف امریکا اور مسلم ممالک کی جانب سے پیش کردہ غزہ منصوبے کی قرارداد پر ووٹنگ ہوگی بلکہ غزہ میں عبوری حکومت کے قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی پر بھی رائے شماری کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: حماس اسرائیل جنگ بندی معاہدہ، سعودی عرب کا خیر مقدم، غزہ میں جشن
عرب میڈیا کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کی خودمختاری اور فیصلہ سازی پر بیرونی طاقتوں کے اثر کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔
حماس کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ کی حکومت اور تعمیر نو کے امور غیرملکی نگرانی میں انجام پائیں گے۔
حماس نے کہا کہ اس قرارداد سے فلسطینیوں کا حکمرانی کا حق چھن جائے گا اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی غزہ میں غیر ملکی کنٹرول کے مترادف ہوگی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ انسانی امداد کا انتظام اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
حماس نے غزہ کو غیرمسلح کرنے اور فلسطینیوں سے مزاحمت کے حق کو چھیننے کے منصوبے کی بھی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قرارداد میں جنگ بندی کے اصول اور غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کی موجودگی کو شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ میں امن کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جسے حماس نے بھی تسلیم کرلیا تھا اور اسے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: حماس اسرائیل معاہدہ نزدیک تر، صیہونی فوج کے حملوں میں بھی شدت
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی صورت آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ قبول نہیں کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل امریکی صدر حماس ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین وی نیوز
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔