اجتماع عام نظام ظلم کے خاتمے کا پیغام ثابت ہوگا، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بدانتظامی، نااہلی اور کرپشن کا بدترین امتزاج بن چکی ہے، سندھ حکومت نے شہر کا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کے بجائے اہلِ کراچی پر ای چالان کے نام پر بھتہ مسلط کردیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ حکومت شہریوں کو معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی، لیکن چالان دبئی کے طرز پر عائد کردیے گئے ہیں جبکہ پچھلے 17 برسوں میں کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے صرف 300 بسیں لائی گئیں، جس کے باعث 40 لاکھ سے زائد شہری موٹر سائیکل پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے جو قومی معیشت میں 60 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جماعت اسلامی نے ای چالان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے کیونکہ ایک ہی ملک میں دو نظام چل رہے ہیں، لاہور میں جہاں ایک جرمانہ 200 روپے ہے، وہی کراچی میں 5 ہزار کا لگا دیا گیا ہے، جو صریحاً ناانصافی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت عالیہ شہریوں کے حق میں فیصلہ دے گی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو معیشت، معاشرت، سیاست اور اخلاقیات سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، 21، 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان پر ایک عظیم الشان اجتماع عام منعقد کیا جارہا ہے، جو نظامِ ظلم کے خاتمے اور اسلامی نظامِ عدل کے قیام کا پیغام ثابت ہوگا۔ انہوں نے اہل کراچی سے اپیل کی کہ وہ اس اجتماع میں اپنے اہل خانہ سمیت بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں مونو ریل اور ماس ٹرانزٹ نظام موجود ہیں، مگر کراچی کے شہری آج بھی چنگ چی جیسی سواریوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ کریم آباد انڈر پاس تین سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوا، ریڈ لائن منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے، اور ناتھا خان برج اس سال پانچ بار ٹوٹ چکا ہے، جس سے عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام 9 ٹاؤنز میں محدود وسائل کے باوجود ترقی و خدمت کا سفر جاری ہے۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے عوامی سہولت کے منصوبوں میں مصروف ہیں، حتیٰ کہ کے ایم سی کی ذمے داریاں بھی جماعت اسلامی نبھا رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ نیو کراچی میں 600 گلیوں کی تعمیر کا آغاز کیا جاچکا ہے جبکہ حیدری مارکیٹ کو ماڈل مارکیٹ میں تبدیل کرکے ضلع وسطی کے عوام کو بہترین سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اسلامی ملک، عملی طور پر یہاں انگریز کا نظام چل رہا: حافظ نعیم
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وسائل پر قابض مراعات یافتہ طبقہ اور افسر شاہی ملک کو اب تک نوآبادیاتی طرز پر چلا رہے ہیں، دستوری اعتبار سے پاکستان اسلامی ملک، عملی طور پر یہاں انگریز کا نظام چل رہا ہے۔ مدارس کے معلمین ، علماء اکرام و طلبا اسلام کے جامع تصور کو عام کریں ، امت کو جوڑنا ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اشرفیہ لاہور کے دورہ کے موقع پر اساتذہ اور طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے مولانا فضل رحیم کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جامعہ اشرفیہ کے درمیان فطری تعلق ہے، بانی جماعت اسلامی سید مودودی اپنی اکثر نمازوں کا اہتمام جامعہ اشرفیہ میں کرتے تھے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطاء الرحمن، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری، ڈاکٹر نوید احمد زبیری و دیگر دورہ کے دوران امیر جماعت اسلامی کے ہمراہ تھے۔ مہتمم جامعہ مولانا ارشد عبید نے امیر جماعت اسلامی کو خوش آمدید کہا جب کہ نائب مہتمم حافظ اسعد عبید نے انہیں دینی درسگاہ کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا۔ قاری عطاء الرحمن، قاری وقار احمد چترالی اور مفتی عمر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام دنیا پر مسلط ہے جس سے معیشت ، سیاست ، اخلاقیات سمیت ہر شعبہ تباہی کا شکار ہے، اسلامی دنیا کو تقسیم کر دیا گیا۔ ان حالات میں علماء اکرام اور دینی مدارس کے طلباء و طالبات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے ابدی پیغام کو عام کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ اسلام ہی ایسا متبادل نظام ہے جس سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔