بھارتی وزیر دفاع کا سندھ سے متعلق بیان امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کے دوبارہ بھارت کا حصہ بننے سے متعلق اشتعال انگیز بیان امن کیلئے خطرہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کے وہم و گمان پر مبنی اور خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے والے بیانات ایک توسیع پسند ہندوتوا ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں جو مستحکم حقائق کو چیلنج کرنے کی کوشش ہیں اور بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستوں کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم راج ناتھ سنگھ اور دیگر بھارتی رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کے لیے زیادہ تعمیری راستہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہی شہریوں، خصوصاً کمزور اقلیتی برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔
’اسے چاہیے کہ وہ اُن عناصر کا محاسبہ کرے جو ان کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں یا اس میں ملوث ہوتے ہیں اور مذہبی تعصبات اور تاریخی مسخ کرنے کے بیانات سے گریز کرے۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے شمال مشرقی خطے کے عوام کے دیرینہ مسائل بھی توجہ کے مستحق ہیں جو اب بھی منظم محرومی، شناخت کی بنیاد پر ظلم و ستم اور ریاستی سرپرستی میں جاری تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور زیر تسلط کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے حقیقی اور پُرامن حل کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کرے۔
پاکستان انصاف، مساوات اور بین الاقوامی قانونی ضابطوں کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے تاہم ماضی کی طرح پاکستان اپنی سلامتی، قومی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے بھرپور اور غیر متزلزل عزم رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر کہ بھارت کے لیے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔