پاکستان نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ کے دوبارہ بھارت کا حصہ بننے سے متعلق اشتعال انگیز بیان امن کیلئے خطرہ ہے۔ 

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کے وہم و گمان پر مبنی اور خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے والے بیانات ایک توسیع پسند ہندوتوا ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں جو مستحکم حقائق کو چیلنج کرنے کی کوشش ہیں اور بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستوں کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم راج ناتھ سنگھ اور دیگر بھارتی رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کے لیے زیادہ تعمیری راستہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہی شہریوں، خصوصاً کمزور اقلیتی برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔

’اسے چاہیے کہ وہ اُن عناصر کا محاسبہ کرے جو ان کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں یا اس میں ملوث ہوتے ہیں اور مذہبی تعصبات اور تاریخی مسخ کرنے کے بیانات سے گریز کرے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے شمال مشرقی خطے کے عوام کے دیرینہ مسائل بھی توجہ کے مستحق ہیں جو اب بھی منظم محرومی، شناخت کی بنیاد پر ظلم و ستم اور ریاستی سرپرستی میں جاری تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور زیر تسلط کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے حقیقی اور پُرامن حل کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کرے۔

پاکستان انصاف، مساوات اور بین الاقوامی قانونی ضابطوں کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے تاہم ماضی کی طرح پاکستان اپنی سلامتی، قومی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے بھرپور اور غیر متزلزل عزم رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر کہ بھارت کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ