بھارتی عالمِ دین مولانا ارشد کے بیان پر سینیٹر حافظ عبدالکریم کا ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
سینیٹر حافظ عبدالکریم—فائل فوٹو
بھارتی عالمِ دین مولانا ارشد کے بیان پر امیرِ مرکزی جمعیت اہلحدیث سینیٹر حافظ عبدالکریم نے لاہور سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مولانا ارشد کا بیان بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیاز کا حقیقی عکاس ہے۔
امیرِ مرکزی جمعیت اہلحدیث نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے اعلیٰ عہدوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔
سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مسلمانوں کو مساوی مواقع ملتے ہیں، پاکستان اقلیتوں کو مکمل آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت اس کام میں لگی ہے کہ مسلمانوں کو سر نہ اُٹھانے دیا جائے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمان وائس چانسلر بن بھی جائے تو وہ جیل میں پڑا ہوتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مسلمان نیویارک اور لندن کا میئر بن سکتا ہے مگر بھارت میں یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر حافظ عبدالکریم کہ بھارت میں مسلمان مولانا ارشد مدنی ہے کہ بھارت میں کہنا ہے کہ نے کہا
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔