کراچی:

اردو یونیورسٹی کے ڈپٹی چیئر کی برطرفی کے بعد وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے خلاف کارروائی ہوگی یا نہیں؟ سوالات پیدا ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈپٹی چیئر سینیٹ کی برطرفی کے بعد کیا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف مختلف شکایات پر کارروائی کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے؟

کیونکہ یہ خیال عام ہے کہ برطرف شدہ ڈپٹی چیئر سینیٹ وائس چانسلر اردو یونیورسٹی کے خلاف شکایات پر کسی بھی کارروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے اور اب یہ رکاوٹ موجود نہیں اور تعلیمی انتظامی حلقوں کی جانب سے اب اس بات کا اشارہ دیا جارہا ہے کہ نئے ڈپٹی چیئر کی تقرری اور ایچ ای سی کی یونیورسٹی کے حوالے سے متوقع تحقیقاتی رپورٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

اس سلسلے میں وفاقی محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں بھی وائس چانسلر کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں وائس چانسلر کی سرزنش کی شکل میں اس فیصلے پر عملدرآمد ابھی باقی ہے جو سینیٹ کا اجلاس بلاکر کی جانی تھی تاہم سینیٹ نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا ہی نہیں کیا جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی وفاقی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد نا کیے جانے پر وفاقی محکمہ تعلیم اور ایچ ای سی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود تعلیمی انتظامی حلقے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف کسی بھی قسم کی محکمہ جاتی کارروائی یونیورسٹی ایکٹ کے تحت سینیٹ کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔

ایکٹ کے مطابق سینیٹ ہی وائس چانسلر کو جبری رخصت پر بھیج سکتی ہے جو کسی وائس چانسلر کے خلاف کارروائی کا نکتہ آغاز ہے اور اس کے لیے کسی ایسے نیوٹرل ڈپٹی چیئر کی ضرورت ہوگی جو تحقیقاتی رپورٹ دستیاب شواہد اور ہراسانی کے مقدمے میں وفاقی محتسب کے فیصلے عملدرآمد کے لیے زمینی حقائق کو مدنظر نظر رکھتے ہوئے اجلاس کی سربراہی کرے اور ڈپٹی چیئر کا جھکائو وائس چانسلر کے مستقبل کو بچانے کے لیے نہ ہو۔

واضح رہے کہ وفاقی محتسب کی عدالت نے حال ہی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر لگے الزامات پر انھیں ذمے دار قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے فیصلہ ساز ادارے سے ان کی سرزنش کرنے کے احکامات دیے تھے تاہم ہٹائے گئے ڈپٹی چیئر کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب ذرائع کہتے ہیں کہ ایچ ای سی کے سینیئر افسر رضا چوہان کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے بھی اپنے تحقیقاتی دائرے اختیار میں وائس چانسلر کے خلاف ہراسانی کیس اور اس حوالے سے محتسب کی عدالت کے فیصلے کو شامل کرلیا ہے جبکہ تحقیقات میں اردو یونیورسٹی کا انتظامی و مالیاتی آڈٹ اور ملازمین کی وائس چانسلر کے حوالے سے شکایات پہلے ہی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں موجود تعلیمی انتظامی ذرائع کہتے ہیں کہ ایوان صدر کی جانب سے نئے ڈپٹی چیئر کا تقرر اور ایچ ای سی کی تحقیقاتی رپورٹ کا متوقع اجراء اب ایک ایسی تصویر پیش کررہا ہے جس میں ماضی کی طرح ایک بار پھر وائس چانسلر کے خلاف کارروائی نکتہ آغاز سے شروع ہو۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ملک کی سرکاری جامعات کے چانسلر اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اردو یونیورسٹی کے ڈپٹی چیئر سینٹ کو ان کے عہدے سے ہٹادیا تھا جس کے بعد وائس چانسلر کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وائس چانسلر کے خلاف اردو یونیورسٹی کے کے خلاف کارروائی ڈپٹی چیئر کی وفاقی محتسب ایچ ای سی کے فیصلے حوالے سے کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک