Jasarat News:
2026-07-24@01:29:29 GMT

امریکا اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی فارمولے پر پیش رفت

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنیوا:امریکا اور یوکرین کے اعلیٰ حکام نے جنیوا میں یوکرین میں جاری جنگ کے حل کے لیے نئے مجوزہ امن پلان پر اہم بات چیت کی جو کئی یورپی دارالحکومتوں کی گہری نظر میں ہے،  مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 28 نکاتی امن منصوبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس پر کیف اور اس کے اتحادیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی وفد کی قیادت سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے ہیں جبکہ یوکرینی ٹیم کی سربراہی چیف آف اسٹاف آندرے یرماک کر رہے ہیں، امریکی آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول بھی وفد کا حصہ ہیں۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ دونوں فریق  جنگ کے خاتمے کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں، سفارت کاری دوبارہ متحرک ہوئی ہے اور یہ مثبت پیش رفت ہے،تمام فریق تعمیری کردار ادا کریں اور آج کی بات چیت کے مثبت نتائج نکلیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی