’’امریکہ‘‘ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر میں نیلام ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
یہ کموڈ مشہور امریکی برانڈ ریپلیز بلیو اٹ اور ناٹ نے خریدا۔ 223 پاؤنڈ وزنی ٹوائلٹ اس ماہ برور بلڈنگ میں خصوصی پریویو کے لیے رکھا گیا، جہاں لوگ اسے ذاتی طور پر دیکھ سکتے تھے۔ یہ کاتیلان کی تین تخلیقات میں سے ایک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی شہر نیویارک میں 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ’’امریکا‘‘ نامی ٹوائلٹ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر میں نیلام کر دیا گیا۔ اطالوی فنکار موریزیو کاتیلان کے تیار کردہ کام کرنیوالا ٹوائلٹ ”امریکا“ 3 ارب 37 کروڑ 20 لاکھ روپے (ایک کروڑ، 21 لاکھ ڈالر) میں فروخت ہوا۔ یہ کموڈ مشہور امریکی برانڈ ریپلیز بلیو اٹ اور ناٹ نے خریدا۔ 223 پاؤنڈ وزنی ٹوائلٹ اس ماہ برور بلڈنگ میں خصوصی پریویو کے لیے رکھا گیا، جہاں لوگ اسے ذاتی طور پر دیکھ سکتے تھے۔ یہ کاتیلان کی تین تخلیقات میں سے ایک ہے۔ ابتدائی طور پر اس ٹوائلٹ کا پہلا ورژن 2016 میں نیو یارک کے گگن ہائیم میوزیم کے ایک پبلک باتھ روم میں نصب کیا گیا تھا، لیکن 3 سال بعد خبریں سامنے آئیں کہ چوروں کے گروپ نے آکسفورڈ شائر محل سے اس کموڈ کو چوری کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔