بنگلادیش اور قطر کے درمیان مسلح افواج کی ڈیپوٹیشن معاہدے پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
بنگلادیش اور قطر نے دوحہ میں مسلح افواج کی ڈیپوٹیشن سے متعلق اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی، سیاسی اور اقتصادی اقدامات پر زور
آئی ایس پی آر بنگلہ دیش کے مطابق یہ معاہدہ اتوار کے روز ڈھاکا میں طے پایا، معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر 800 بنگلادیشی فوجی اہلکار قطر میں تعینات کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس انتظام سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون مزید مضبوط ہوگا اور دفاعی شراکت کو نئی بلندی ملے گی۔
بنگلادیش کی جانب سے معاہدے پر دستخط پرنسپل اسٹاف آفیسر آرمڈ فورسز ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الاحسن نے کیے، جبکہ قطر کی جانب سے ، چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (پائلٹ) جاسم بن محمد المناعی نے دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ بنگلہ دیش، دوطرفہ میری ٹائم تعلقات میں سنگ میل قرار
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ڈھاکا اور دوحہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اعتماد کی علامت ہے اور آئندہ برسوں میں تربیت، آپریشنز اور پرسنل ایکسچینج کے وسیع تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش ڈیپوٹیشن قطر مسلح افواج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈیپوٹیشن مسلح افواج کے درمیان بنگلہ دیش
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔