برطانوی وزیر کی بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر سے ملاقات: انتخابات، غیرقانونی ہجرت اور دوطرفہ تعاون پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بنگلادیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے یقین دلایا ہے کہ آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات آزاد، منصفانہ اور شمولیتی ہوں گے۔
یہ یقین دہانی انہوں نے جمعرات کی شام ڈھاکا کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں برطانیہ کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی بیرونس جینی چیپ مین سے ملاقات کے دوران کرائی۔
انتخابات، ہجرت، تجارت اور روہنگیا بحراندونوں رہنماؤں نے ملاقات میں کئی اہم امور پر گفتگو کی، جن میں آئندہ فروری کے عام انتخابات، غیرقانونی ہجرت، تجارت و سرمایہ کاری، روہنگیا بحران اور بحری و فضائی شعبوں میں تعاون کے امکانات شامل تھے۔
پروفیسر یونس نے کہا کہ قومی انتخابات فروری کے پہلے نصف میں وقتِ مقررہ پر ہوں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ووٹر ٹرن آؤٹ زیادہ ہوگا کیونکہ گزشتہ 16 برسوں میں ہونے والے تین مبینہ طور پر دھاندلی زدہ انتخابات میں لاکھوں نوجوان ووٹ نہیں ڈال سکے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی لیگ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی کیونکہ جماعت کی سرگرمیاں دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت معطل ہیں اور الیکشن کمیشن اسے رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی فہرست سے خارج کر چکا ہے۔
چیف ایڈوائزر نے جولائی چارٹر کو ملک کے لیے ایک نئے آغازسے تعبیر کیا، جو ان لاکھوں افراد کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے گزشتہ برس جولائی اگست کی عوامی تحریک میں حصہ لیا۔
برطانوی وزیر کے تبصرےبیرونس چیپ مین نے عبوری حکومت کے قیام کے بعد پروفیسر یونس کی قیادت کو سراہا اور قومی مفاہمتی کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے متعدد ممالک کے شہریوں کی جانب سے برطانیہ کے اسائلم سسٹم کے غلط استعمال پر اظہارِ تشویش کیا اور محفوظ، قانونی اور منظم ہجرت پر زور دیا۔ پروفیسر یونس نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت منظم لیبر مائیگریشن کو فروغ دینے اور استحصال روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
روہنگیا بحران اور تجارتی تعاونگفتگو کے دوران روہنگیا بحران بھی زیرِ غور آیا۔ پروفیسر یونس نے خبردار کیا کہ کیمپوں میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کے لیے امید اور تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، ورنہ مایوسی میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی بات کی۔ چیف ایڈوائزر نے بتایا کہ بنگلادیش خلیجِ بنگال میں سمندری تحقیق کے لیے برطانیہ میں تیار کردہ ایک ریسرچ جہاز خرید رہا ہے۔ وزیر چیپ مین نے فضائی تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور بتایا کہ ایئربس انٹرنیشنل کے سربراہ جلد بنگلادیش کا دورہ کریں گے۔
ملاقات میں نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر خلیل الرحمان، ایس ڈی جی کوآرڈینیٹر لمیا مرشد اور برطانوی ہائی کمشنر سارہ کُوک بھی موجود تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش روہنگیا بحران چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس انہوں نے یونس نے کے لیے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔