کراچی اور حیدرآباد میں ڈینگی بخار کے کیسز میں خطرناک اضافہ، ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے حکومتِ سندھ سے کراچی اور حیدرآباد میں ڈینگی بخار کے کیسز میں خطرناک اضافہ ہونے پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔پی ایم اے کے مطابق ڈینگی بخار کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ناکارہ بلدیاتی نظام، صفائی کی ناقص صورتحال اور مچھر مار مہم کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ یہ قدرتی وبا نہیں بلکہ انسانی غفلت سے پیدا ہونے والا بحران ہے۔محکمہ صحت سندھ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال صوبے بھر میں 11,763 ڈینگی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 6,199 کیسز صرف رواں ماہ سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت کراچی کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں 147 مریض جبکہ حیدرآباد میں 203 مریض زیرِ علاج ہیں۔پی ایم اے نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں فوری طور پر ویکٹر کنٹرول مہم شروع کی جائے، کھڑے پانی، نالیوں اور کچرے کے ڈھیروں کی صفائی یقینی بنائی جائے اور ڈینگو کنٹرول پروگرام کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے۔صوبائی محکمہ صحت کے سیکریٹری ریحان بلوچ نے کہا کہ حیدرآباد میں ڈینگو کی مثبت شرح پچھلے ہفتے کے 46 فیصد سے کم ہو کر اس ہفتے 35 فیصد ہو گئی ہے، تاہم صورتحال ابھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ماہرینِ صحت کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ڈینگو کا پھیلا مزید بڑھ سکتا ہے اور کراچی و حیدرآباد میں یہ بحران صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔