کراچی میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے کراچی میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ عوامی جان و مال کے تحفظ اور شہری علاقوں میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے شروع کی گئی۔ اس مہم کے تحت ایس بی سی اے شہر بھر میں بوسیدہ، خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں کے انہدام کی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ جمعہ کو جاری کردہ سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ مہم وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر اور ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو کی نگرانی میں جاری ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں اتھارٹی کی جانب سے صوبے بھر میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کا جامع سروے مکمل کیا گیا جس کے بعد سندھ بھر میں ایسی عمارتوں کی فوری مسماری کے احکامات جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شہری کو بوسیدہ عمارت کے گرنے سے جان نہیں گنوانی چاہیے۔ ہماری ٹیمیں قوانین پر عمل درآمد اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ایس بی سی اے کے مطابق جنوری 2025 سے 5 نومبر 2025 تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی اور دیگر علاقوں میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کل 1622 کارروائیاں کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں خطرناک اور غیر قانونی عمارتوں اور غیر قانونی عمارتوں کے کے خلاف
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔