امریکی کروڈ آئل کا دوسرا بحری جہاز بھی پاکستان کی سمندری حدود میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
دو ہفتے بعد امریکی کروڈ آئل کا دوسرا بحری جہاز بھی پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوگیا ہے.
امریکی خام تیل بردار بحری جہاز ایم ٹی البانی کی سنرجیکو کے آئل ٹرمینل پر پیر کی شام برتھنگ ہوگی۔
ایم ٹی البانی پاکستانی بندرگاہوں پر پہنچنے والا دوسرا امریکی تیل بردار بڑا بحری جہاز ہے۔
سنرجیکو کی جانب سے پاکستان میں پہلی بار 10، 10لاکھ بیرل کے دو ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل درآمد کیا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد امریکا سے خام تیل کی درآمدی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
سنرجیکو آئل کمپنی امریکی تیل بردار بحری جہاز کو بلوچستان میں اپنے آئل ٹرمینل پر لے کر آیا ہے۔
اس سے قبل 29اکتوبر کو پہلا امریکی کارگو ایم ٹی پیگاسس پاکستان پہنچا تھا۔ بحری جہاز پیگاسس امریکی خام تیل لے کر 14ستمبر کو ہیوسٹن سے روانہ ہوا اور سنرجیکو کے آف شور ٹرمینل پر 29اکتوبر کو لنگر انداز ہوا۔
سنرجیکو نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بڑے تجارتی معاہدے کے بعد دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے لیے امریکی خام تیل کی تاریخی درآمدات کے ذریعے آغاز کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔