لاہور، انسداد اسموگ کے لیے ضلعی انتظامیہ کی کارروائی، ہوٹلز اور کمرشل مارکیٹس بند کر دی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں انسداد سموگ کے حوالے سے ہائی کورٹ کے احکامات پر ضلعی انتظامیہ نے بھرپور کارروائی شروع کر دی ہے۔
متعدد علاقوں میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کمرشل مارکیٹس کو رات گیارہ بجے تک بند کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔
اسسٹنٹ کمشنرز اور پولیس کی نگرانی میں یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ اسموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں جیسے گلبرگ، لبرٹی مارکیٹ، انار کلی، مال روڈ، گڑھی شاہو اور دیگر جگہوں پر دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔
تاہم شہر کے بعض علاقوں جیسے لکشمی چوک، گوال منڈی، ریلوے اسٹیشن، جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ اور بادامی باغ میں دکانیں رات دیر تک کھلی رہیں۔
ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کا کہنا تھا کہ اگر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی تو ہوٹلوں اور دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
یہ کارروائیاں شہر میں بڑھتی ہوئی اسموگ اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں جس کے لیے ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔