امید ہے نواز شریف اپنے بھائی کو آئینی ترمیم سے روکیں گے، زبیر عمر
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے کہا ہے کہ امید ہے نواز شریف اپنے بھائی کو 27ویں آئینی ترمیم سے روکیں گے۔
اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو زبیر عمر نے کہا کہ نواز شریف سے گزارش ہے کہ وہ 26ویں یا 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں ایک بیان دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے نواز شریف اپنے بھائی کو یہ کرنےسے روکیں گے، اگر اس ملک میں انوسٹمنٹ نہیں آئے گی تو یہ کیسے چلے گا۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ شک و شبہ نہیں کہ ملک میں جبر کا نظام نافذ ہے،یہ عدلیہ کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں۔
زبیر عمر نے مزید کہا کہ کل جو وزیروں نے پریس کانفرنس کی اس میں عوام کو کچھ نہیں بتایا گیا، مڈل کلاس پر بات نہیں ہوئی، مہنگائی پر بات نہیں ہوئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پونے 4 سال میں تقریباً دو سو بیرونی دورے کر چکے ہیں،200 ایم او یو سائن کیے گئے، جن کی قیمت بلین ڈالر ہے۔
سابق گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایف ڈی آئی مائنس بلین ڈالر ہے، پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 1 اعشاریہ2 فیصد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نواز شریف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔