لاہور، مارکیٹیں رات 10 ، ریسٹورنٹ 11 بجے بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
لاہور:(نیوز ڈیسک)ضلعی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے حکم پر تمام مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو 2023 کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کردی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق انسداد اسموگ اقدامات کے تحت پیر سے ہفتہ مارکیٹیں رات دس بجے جبکہ ریسٹورنٹ اور کیفے رات گیارہ بجے بند ہوں گے۔
اتوارکو مارکیٹیں دوپہر دو بجے سے رات دس بجے تک کھل سکیں گی، ہوم ڈیلیوری کی رات 2 بجے تک اجازت ہوگی۔
میڈیکل اسٹورز، بیکریز، تندور، دودھ کی دکانیں، اسپتال، لیبارٹریز، پٹرول پمپ اور پنکچر شاپس کو استثنیٰ ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کا کہنا ہے کہ نئے اوقات کار پر پابندی لازمی ہوگی، خلاف ورزی پردوکاندار ہوٹلز ریسٹوانٹس کو سیل کیا جائے اور بھاری جرمانے ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔