اسموگ تدارک کیس؛ لاہور کی فضا صاف رکھنے کیلیے سخت اقدامات کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور شہر کی فضا صاف رکھنے کے لیے سخت اقدامات کی تجویز سامنے آئی۔
جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے شہر میں اسموگ کی بڑھتی ہوئی شدت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ فضا کی بہتری کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک تجویز ہے کہ ایک ماہ کے لیے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کر دی جائیں۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے، ہمیں ایک دو ماہ یا چار ہفتے ایسا کرنا پڑے گا۔
عدالت نے مزید کہا کہ شادی ہالز پر بھی کڑی نظر رکھی جائے اور تمام شادی ہال رات 10 بجے بند ہونے چاہئیں۔ شادیوں پر ون ڈش کی خلاف ورزی بھی ہو رہی ہے، اگرچہ اس کا ماحولیات سے تعلق نہیں مگر قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے مارکیٹوں کے اوقات کار پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کا نوٹیفکیشن 2023 کا ہے، اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ ڈپٹی کمشنر لاہور نے عدالت کو بتایا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق بازار رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند ہونے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہر میں پانچ منٹ کے لیے بھی ٹریفک بلاک نہیں ہونی چاہیے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کو عدالت سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔
مزید برآں، عدالت نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی کہ موٹر بائیک اسکواڈز مسلسل گشت کریں، تین وہیلرز اور رکشوں کی انسپکشن کا عمل جاری رکھا جائے۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کام تین ماہ پہلے شروع ہونا چاہیے تھا، اب فائدہ نہیں، جو ہونا تھا ہو گیا۔
سماعت کے دوران واسا کے جاری تعمیراتی منصوبوں پر بھی عدالت نے سخت نوٹس لیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہر میں 6 ماہ سے واسا کے پروجیکٹس جاری ہیں، جگہ جگہ کھدائی اور مٹی پھیلی ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں اسموگ گن کیا کام کرے گی؟
عدالت نے سوال اٹھایا کہ واسا اور ایل ڈی اے پر محکمہ ماحولیات نے جرمانے کیوں نہیں کیے؟ واسا نے بڑے بڑے پائپ چھ ماہ پہلے سڑکوں پر رکھ دیے، جن کی وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں، یہ کیا طریقہ کار ہے؟
ہائیکورٹ نے واسا اور ایل ڈی اے کے ذمہ دار افسران کو کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ واسا اپنے تمام منصوبوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کرائے۔
واسا کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں تفصیلات پیش کرنے کے لیے جمعے تک مہلت دی جائے۔
عدالت نے کہا کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ کنٹریکٹ کے مطابق یہ پروجیکٹس کب ختم ہونے تھے، جس پر عدالت نے اسموگ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالت نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔