27ویں آئینی ترمیم ، ووٹ دینے کے بعد پی ٹی آئی کے باغی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ میں آج سینیٹ کی رکینت سے استعفی دیتا ہوں، جس کے جواب میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم آپ کو پھر سینیٹر بنا دیں گے۔
سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح ہم سب کے لیے فخر ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے جتنی عزت ہمارے فیلڈ مارشل کو دی کسی صدر وزیراعظم کو نہیں دی۔
پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے 27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا
انہوں نے کہا کہ پہلے یہی کام فروغ نسیم کرتے تھے اب آپ کر رہے ہیں پی ٹی آئی آئے گی تو یہی کام بیرسٹر علی ظفر کریں گے، 26ویں آئینی ترمیم کے وقت میری بیگم گرفتار ہوئی تھی، میرے 10 فیملی ممبر اٹھائے گئے، کس پی ٹی آئی رکن نے میرے لیے آواز نہیں اٹھائی۔
خیال رہے کہ سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی گئی، 64 اراکین نے ووٹ دیا۔ اس سے قبل ترمیم کی 59 شقوں کی سلسلہ وار منظوری دی گئی۔
مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔
اپوزیش کے شور شرابے میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کرلی گئی، حکومت کو سینیٹ میں مطلوبہ 64 ووٹ مل گئے، 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل ہونے کے بعد تمام شقیں منظور کرلی گئیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک ووٹ ٹوٹ گیا، سیف اللّٰہ ابڑو نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جے یو آئی ف کے احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے، احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ترمیم کے حق میں ووٹ دیا 27ویں ا ئینی ترمیم پی ٹی ا ئی نے کہا کہ ہ ابڑو نے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،