سینیٹ اجلاس: 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش،کاروائی جاری ،جلد ووٹنگ کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سینیٹ اجلاس: 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش،کاروائی جاری ،جلد ووٹنگ کا امکان senate of pakistan WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔
دوران اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل شامل ہے۔ اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، آئینی ترمیم تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، کمیٹی نے آئینی کورٹ بنانے کو متفقہ طور پر منظور کیا تاہم کچھ ترامیم کیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم میں تمام صوبوں کی کورٹ شامل ہیں، ہائیکورٹ کا بھی آئینی کورٹ میں حصہ ہو گا، ہائیکورٹ کا جج آئینی عدالت کے لیے نامزد ہوگاجس کیلیے کمیٹی نیکہا ہے اس کی اہلیت 7کی بجائے 5سال ہوگی۔
فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا ، ازخود نوٹس کے لیے تجویزکیا ہیکہ آئینی عدالت تب اس پرکام کریگی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جج کی ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن پاکستان کے ذریعے ہوگی، اگرجج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہوگا جب کہ جج کو انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا۔ فاروق نائیک نے کہا کہ صدارتی استثنی تب قابل عمل نہیں ہوگا جب وہ پبلک آفس ہولڈر ہوجائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی سینیٹ نے شٹ ڈا ئون ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت کرلی امریکی سینیٹ نے شٹ ڈا ئون ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت کرلی اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی عدالت کی ممکنہ تشکیل کے لیے تیاریاں تیز معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کر گئیں کیش لیس معیشت سے گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی آئے گی، وزیراعظم جے یو آئی کا 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ ستائیسویں آئینی ترمیم پر سینیئرز وکلا اور ریٹائرڈ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، اہم مطالبہ کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ویں آئینی ترمیم قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں پیش
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔