جعلی اور غیر محفوظ مصنوعات کے خلاف ٹِک ٹاک شاپ کی سخت کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
واشنگٹن (ویب ڈیسک) شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اپنی شاپنگ سروس یعنی ٹِک ٹاک شاپ میں صارفین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جعلی اور غیر محفوظ مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق ٹِک ٹاک نے اپنی شاپنگ سروس یعنی ٹِک ٹاک شاپ کے اندر صارفین کی حفاظت اور اعتماد بڑھانے کے لیے نئی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹِک ٹاک نے دھوکہ دہی، جعلی مصنوعات اور ضابطہ شکنیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران تقریباً 14 لاکھ فروخت کنندہ کی رجسٹریشن درخواستیں مسترد کی گئیں کیونکہ وہ ٹِک ٹاک شاپ کے معیار پر پورا نہیں اترے، اسی مدت میں 7 لاکھ سے زائد فروخت کنندہ کو دکان کی سطح کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے دکان بند کر دی گئی۔
پہلی ششماہی میں 7 کروڑ سے زائد مصنوعات کی لسٹنگ رد کی گئیں، جن کی بڑی وجہ جعلی یا غیر محفوظ مصنوعات تھیں اور اسی دوران تقریباً 2 لاکھ ممنوع یا محدود مصنوعات کی لسٹنگ ہٹائی گئی۔
ٹِک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ شاپنگ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ صارفین اعتماد کے ساتھ ایپ کے اندر خریداری کر سکیں۔
اس کے علاوہ نئے فروخت کنندہ کے لیے سخت تصدیقی عمل وضع کیا گیا ہے، جس میں شناختی دستاویزات، کاروباری رجسٹریشن اور ابتدا میں محدود لسٹنگز اور آرڈرز شامل ہیں۔
کاروباری تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ممالک میں صارفین ابھی بھی سوشل میڈیا کے ذریعے شاپنگ میں احتیاط برت رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ ماضی میں فراڈز اور جعلی اشتہارات کی زیادتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹ ک ٹاک شاپ ک ٹاک نے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔