data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: بھارت میں زہریلا کھانسی کا شربت پینے سے درجنوں بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر ترقی پذیر ممالک میں ادویات کے معیار اور حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاستوں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں زہریلا کھانسی کا شربت پینے سے کم از کم 24 بچے جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد ایک بار پھر ترقی پذیر ممالک میں دواؤں کے معیار اور حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ نیا نہیں، 2022 میں گیمبیا، ازبکستان، انڈونیشیا اور کیمرون میں بھی آلودہ شربت پینے سے 300 سے زائد بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچوں میں بخار، قے، پیشاب کی بندش اور گردوں کے انفیکشن جیسی علامات ظاہر ہوئیں، لیبارٹری تجزیے سے معلوم ہوا کہ شربت میں ڈائیتھائلین گلائکول (Diethylene Glycol) نامی زہریلا کیمیکل شامل تھا، جو دراصل انڈسٹریل سالوینٹس اور اینٹی فریز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی معمولی مقدار بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً بچوں کے لیے۔

صحتِ عامہ کے ماہر دنیش ٹھاکر کے مطابق یہ کیمیکل ناقص گلیسرین کے ذریعے دواؤں میں شامل ہو جاتا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایسے واقعات عموماً ان فیکٹریوں میں ہوتے ہیں جہاں صفائی، تربیت اور کوالٹی کنٹرول کے اصولوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت نے واقعے کے بعد تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی یا نزلے کی کوئی دوا نہ دی جائے، جبکہ وزارتِ صحت نے 19 فیکٹریوں پر چھاپے مار کر ان کے حفاظتی نظام کا جائزہ لیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سانحے کی ذمہ داری ادویہ ساز کمپنیوں اور حکومتی اداروں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ پروفیسر ونسٹن مورگن کے مطابق فیکٹری مالکان پر لازم ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی جانچ یقینی بنائیں، اور حکومت کو سختی سے اپنے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کرانا چاہیے۔

تاریخی طور پر بھی ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں — 1937 میں امریکہ میں آلودہ دوا سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بھارت میں 1972 سے اب تک نو مرتبہ ایسے سانحات پیش آ چکے ہیں جن میں 300 سے زیادہ بچے زندگی سے محروم ہو گئے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے کھانسی کے شربت طبی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے، بلکہ ان میں شامل بعض اجزاء نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک دوا سازی کے عمل میں شفافیت، معیاری جانچ اور نگرانی کا سخت نظام قائم نہیں ہوتا، اس طرح کے المناک سانحات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے — اور ان کی قیمت معصوم جانوں سے ادا کی جاتی رہے گی۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شربت پینے سے کے مطابق

پڑھیں:

بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند

مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بابوسر ٹاپ روڈ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنر دیامر آفس 05812920055 دیامر پولیس کنٹرول روم 05812930037 پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟