پنجاب میں حاملہ خواتین اور 2سال سے کم عمر بچوں کی ماں کیلئے آغوش پروگرام شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
پنجاب کے 13 اضلاع میں حاملہ خواتین اور 2 سال سے کم عمر بچوں کی ماں کیلئے آغوش پروگرام شروع کر دیا گیا۔سرگودھا ڈویژن کے چاروں اضلاع سرگودھا، خوشاب، میانوالی،بھکر،سمیت پنجاب کے 13 اضلاع لیہ، کوٹ ادو،بہاولپور،تونسہ شریف،ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ،بہاولنگر،رحیم یار خان،ملتان اور لودھراں وغیرہ میں حاملہ خواتین اور 2 سال سے کم عمر بچوں کی ماں کو آغوش پروگرام کے ذریعے 38,000 روپے کی مرحلہ وارادائیگی اور مراکز صحت پر مفت طبی سہولیات کی فراہمی شروع کر دی گئی۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ خواتین رجسٹریشن کرواتے ہوئے اپنے زیر استعمال درست موبائل نمبر درج کروائیں ورنہ رقم حاصل نہیں کر سکیں گئیں۔جبکہ رجسٹرڈ خواتین ہر معائنہ پر آغوش کارڈ یا شناختی کارڈ اپنے ہمراہ ضرور لے کر آئیں۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک خواتین تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں سے اپنی رجسٹریشن کروا سکتی ہیں۔ جبکہ دیگر خواتین صرف بنیادی و دیہی مراکز صحت پراپنی رجسٹریشن کروا سکتی ہیں اور آغوش کے تحت 38,000 روپے تک کی مکمل رقم حاصل کرنے کے لیے ماں اور بچے کی صحت سے منسلک تمام معائنوں اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کا حصول یقینی بنائیں۔جبکہ رجسٹریشن سے مشروط 2000 روپے کی رقم دوران حمل کسی بھی مرحلہ پر رجسٹریشن کروانے پر ایک بار ادا کی جائے گی۔آغوش پرو گرام سے منسلک خواتین طبی معائنے کے بعد قریبی کیش ایجنٹ سے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد بغیر کسی کٹوتی کے رقم حاصل کر سکتی ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔