27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے فیصلہ: مولانا فضل الرحمان بیرون ملک چلے گئے
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بیرون ملک چلے گئے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان غیرملکی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی سے دبئی روانہ ہوئے جس کے بعد وہ بنگلا دیش پہنچیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد محمود بھی ان کے ساتھ دبئی روانہ ہوئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا سربراہ جے یو آئی بنگلا دیش میں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کریں گے، کانفرنس میں دنیا بھر سے علماء و مشائخ کو مدعو کیا گیا ہے۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کا 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت نے 26 ویں ترمیم سے نکالے گئے نکات کو 27 ترمیم میں شامل کر کے عہد شکنی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔