این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، ڈیڑھ کروڑ ماہانہ بھتا، 13 افسران گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
13 افسران کا گروپ 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ بھتا وصول کرتا رہا
گرفتار چینی شہریوں کی رہائیکیلئے بھاری رقوم لی گئیں، ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل کی تفتیش میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، راولپنڈی میں 13 افسران کا ایک گروپ 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ روپے بھتہ وصول کرتا رہا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی زیر نگرانی ٹیم فرنٹ مین حسن امیر کے ذریعے رقم وصول کرتی رہی اور آٹھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر بارہ کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے۔ کال سینٹر سے گرفتار چینی شہریوں کی رہائی کے لیے بھی بھاری رقوم لی گئیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق، سب انسپکٹر بلال نے نئے کال سینٹر کے لیے 8 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کیے تھے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 11 میں کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ڈیل کی گئی۔ ایس ایچ او میاں عرفان نے کال سینٹر سے 4 کروڑ روپے میں ڈیل فائنل کی۔ مئی 2025 میں عامر نذیر کو راولپنڈی آفس کی کمانڈ سونپی گئی، جبکہ ندیم خان ڈپٹی ڈائریکٹر اور صارم علی سب انسپکٹر کے طور پر تعینات ہوئے۔ بعد میں ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان علوی بھی اس ٹیم کا حصہ بن گئے۔تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ سب انسپکٹر صارم نے اپنے منشی محی الدین کو فرنٹ مین مقرر کر رکھا تھا۔ راولپنڈی میں کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 14 چینی شہری گرفتار کیے گئے، جن میں سے ایک شہری کی بیوی عربیہ رباب سے رابطہ کیا گیا اور شوہر کی رہائی کے لیے 8 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ باقی 13 چینی شہریوں کی رہائی کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ قانونی لوازمات کے لیے مزید ایک ملین روپے لیے گئے۔اس ڈیل سے حاصل شدہ 2 کروڑ 10 لاکھ روپے افسران میں تقسیم کیے گئے۔ صارم علی کو 17 لاکھ، عثمان بشارت کو 14 لاکھ اور ظہیر عباس کو 10 لاکھ روپے ملے۔ ندیم خان نے عثمان بشارت کے دفتر سے 95 لاکھ روپے وصول کیے اور ایڈیشنل ڈائریکٹر عامر نذیر کو 70 لاکھ دے کر باقی رقم اپنے پاس رکھی۔ذرائع ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، اور این سی سی آئی اے کے 13 افسران کے خلاف مقدمہ گزشتہ رات درج کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔