بیرون ملک روزگار کیلئے جانیوالے افراد کیلئے رجسٹریشن کروانا لازم قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بغیر رجسٹریشن کے پاسپورٹ پر پروٹیکٹر جاری نہیں ہو گا۔ وزارت اوورسیز پاکستانیز نے انسانی سمگلنگ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے “پاک سکلز” کو متعارف کرایا گیا ہے۔ جو 19 نومبر سے نافذ العمل ہو گا۔ “پاک سکلز” ایپ پر رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔ بیرون ملک نوکری کے خواہشمند درخواست دہندگان کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ اسلام ٹائمز۔ بیرون ملک روزگار کیلئے جانیوالے افراد کو اب “پاک سکلز” کے پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کروانا لازم ہوگا۔ بغیر رجسٹریشن کے پاسپورٹ پر پروٹیکٹر جاری نہیں ہو گا۔ وزارت اوورسیز پاکستانیز نے انسانی سمگلنگ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے “پاک سکلز” کو متعارف کرایا گیا ہے۔ جو 19 نومبر سے نافذ العمل ہو گا۔ “پاک سکلز” ایپ پر رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔ بیرون ملک نوکری کے خواہشمند درخواست دہندگان کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ جس میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نمبرز، تعلیمی قابلیت اور بیرون ملک روزگار کی تفصیلات شامل ہیں۔ روزگار کیلئے بیرون ملک جانیوالے افراد کو “پاک سکلز” سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی پروٹیکٹر جاری نہیں ہو گا۔
یہ اقدام انسانی سمگلنگ اور بیرون ملک روزگار کیساتھ منسلک خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے بھی بیرون ملک روزگار کیلئے سفر کرنیوالے پاکستانیوں کیلئے نیا ضابطہ نافذ کیا تھا۔ جس میں انہیں گریڈ 18 یا 19 کے سینئر سرکاری افسر کے دستخط شدہ حلف نامہ پیش کرنا ہوگا۔ یہ حلف نامہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ مسافر صرف مذکورہ روزگار کے مقام پر کام کرے گا اور غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرون ملک روزگار روزگار کیلئے پاک سکلز
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔