’ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں‘، آئینی عدالت سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے دلچسپ ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
’ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں‘، آئینی عدالت سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے دلچسپ ریمارکس WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی آئینی عدالت سے متعلق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے دلچسپ ریمارکس دیے ہیں۔
انہوں نے یہ ریمارکس محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب سے منسلک ڈاکٹر اعظم علی کی ترقی سے متعلق کیس میں دیے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ میرے موکل کو نظرانداز کرکے جونیئر افسران کو ترقی دی گئی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں دستاویزات سے دیکھا دیں کہ جونیئرز کو ترقی دی گئی اور آپ کے موکل کو نظرانداز کیا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر کوئی بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت بجھوا دیتے ہیں، ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں۔
جسٹس منصور علی شاہ کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے، عدالت عظمیٰ نے درخواست مسترد کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے غزہ امن منصوبے کی فیصلہ سازی سے اسرائیل کو نکال دیا ستائیسویں ترمیم پاس ہوگئی، 28 ویں ترمیم کی تیاری کریں، فیصل واوڈا ستائیسویں آئینی ترمیم پر کسی قسم کا ڈیڈلاک نہیں، عطاءاللہ تارڑ حیرت ہے جنہوں نے الیکشن کا فیصلہ دیا، پھر ڈویژن بینچ میں بیٹھ کر معطل کر دیا، جسٹس محسن ستائیسویں آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر اسحاق ڈار کا جواب سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت سے متعلق اہل خانہ کی وضاحت آ گئی ستائیسویں ترمیم، سپریم کورٹ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہفتہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس منصور علی شاہ ا ئینی عدالت
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔