بھارتی اداکارہ کا فوجی بھائی یو اے ای میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بھارتی اداکارہ سیلینا جیتلی نے اپنے بھائی، میجر وکرنت کمار جیتلی کے لیے ایک جذباتی اور فکر انگیز پوسٹ شیئر کی ہے۔ ان کے بھائی کو مبینہ طور پر گزشتہ ایک سال سے متحدہ عرب امارات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔
انسٹاگرام پر سیلینا نے لکھا، ”میرا ڈمپی، امید ہے تم ٹھیک ہو، امید ہے تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ ایک مضبوط ستون کی طرح کھڑی ہوں، امید ہے تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے لیے ایک بھی رات بغیر آنسو بہائے نہیں گزاری، امید ہے تم جانتے ہو کہ میں ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہوں…“
یہ جذباتی پوسٹ اس وقت منظر عام پر آئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ چار ہفتوں کے اندر میجر وکرنت کمار جیتلی کے معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔
خاندان نے حکومت سے مداخلت کی درخواست کی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ میجر جیتلی ابوظہبی میں مناسب قانونی یا طبی سہولیات کے بغیر حراست میں ہیں۔ سیلینا کے وکیل راگھو ککر کے مطابق، ایک نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے تاکہ درخواست گزار اور ان کے بھائی کے درمیان رابطہ ممکن بنایا جا سکے اور انہیں مؤثر قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔
View this post on InstagramA post shared by Celina Jaitly (@celinajaitlyofficial)
سیلینا نے پہلے بھی اپنے انسٹاگرام پیغام میں کہا تھا، ”ایک سال تک میں تمہارے لیے کوشش کرتی رہی۔ اب میں دعا کر رہی ہوں کہ ہماری حکومت تمہارے لیے لڑے اور تمہیں محفوظ واپس لے آئے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ بھارت کی حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ ایک چوتھی نسل کے فوجی، بیٹے اور پوتے کی حفاظت ہو، جنہیں کمنڈیشن فار گیلینٹری سے نوازا گیا ہے۔“
میجر وکرنت کمار جیتلی اسپیشل فورسز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا کیس 4 دسمبر کو دوبارہ سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کی پیروی وکلاء راگھو ککر اور مدھو اگروال کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امید ہے تم
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک